پیر عبدالخالق نقشبندی عظیم روحانی شخصیت تھے۔ مرکزی امیر تحریک منہاج القرآن کا ختم چہلم کی تقریب سےخصوصی خطاب

تحریک منہاج القرآن اور منہاج القرآن علماء کونسل کے مرکزی رہنما اور ایڈیٹر مجلہ العلماء و دختران اسلام صاحبزادہ محمد حسین آزاد الازہری کے والد گرامی پیر طریقت حضرت الحاج حکیم میاں محمد عبدالخالق نقشبندی کا ختم چہلم ان کے آستانہ عالیہ مدرسۃ الازہر میلاد روڈ عبدالستار پارک پنڈی سٹاپ کوٹ لکھپت لاہور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت مرکزی امیر تحریک منہاج القرآن صاحبزادہ مسکین فیض الرحمن درانی نےفرمائی۔ جبکہ سجادہ نشین آستانہ عالیہ چشتیہ آباد کامونکی پیر سید خلیل الرحمن چشتی اور پیر سید مظفر حسین جماعتی سجادہ نشین آستانہ عالیہ علی پور سیداں شریف نارووال مہمانان خصوصی تھے۔ استاذ العلماء علامہ مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی، شیخ التفسیر منہاج یونیورسٹی نےخصوصی شرکت فرمائی۔ داعی اتحاد بین المسلمین علامہ سید علی غضنفر کراروی، مرکزی ناظم دعوت تحریک منہاج القرآن علامہ رانا محمد ادریس نے حضرت بابا جی کی شخصیت اور خدمات کے حوالے سے خطابات فرمائے جبکہ سجادہ نشین صاحبزادہ محمد حسین آزاد الازہری نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیئے۔ مہمانان ذی وقار میں چیف آرگنائزر جمیعت علماء پاکستان علامہ مفتی صفدر علی قادری، سجادہ نشین درگاہ حضرت منظور المشائخ اوکاڑہ صاحبزادہ سعید احمد صابری، نائب امیر تحریک منہاج القرآن الحاج سمیع اللہ قادری، ڈائریکٹر امور خارجہ تحریک منہاج القرآن جی ایم ملک، سیکرٹر ی جنرل پاکستان عوامی تحریک انوار اختر ایڈووکیٹ، پروفیسر محمد افضل کانجو، الحاج جاوید اقبال قادری، الحاج محمد الیاس قادری، علامہ غلام شبیر فاروقی شامل تھے۔ ختم چہلم کی یہ تقریب صاحبزادہ حکیم محمد عمر تبسم قصوری اور صاحبزادہ حکیم ڈاکٹر محمد لقمان نوری حضرت بابا جی کے صاحبزادگان کی زیرنگرانی منعقد ہوئی۔ اس موقع پر صدر مجلس پیر طریقت مسکین فیض الرحمن درانی نے خصوصی خطاب میں فرمایا کہ پیر طریقت حضرت الحاج میاں محمد عبدالخالق نقشبندی المعروف جناں والے پیر عظیم صوفی بزرگ اور روحانی شخصیت کے مالک تھے، جنہوں نے ساری زندگی مخلوق خدا کی خدمت اور انہیں صرا ط مستقیم پر گامزن کرتےگزاری۔ وہ علم و عمل کے پیکر اور سچےعاشق رسول تھے۔ انہوں نے دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئےمساجد اور مدارس قائم کئے اور ساری زندگی یتیم اور بےسہارا افراد کی کفالت کرتے رہے۔ وہ ولی کامل تھے، جن کی وفات آخری عشرہ رمضان کو 29 رمضان المبارک کی طاق رات قبولیت کی گھڑی کے وقت ہوئی اور نماز عیدالفطر کے بعد ہزار ہا افراد نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی امامت میں نماز جنازہ ادا کیا۔

تبصرہ