ام المومنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا

نواز رومانی

حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا جب اپنے خاندان والوں کے ہمراہ مدینہ منورہ پہنچیں تو بڑے آرام و سکون کے ساتھ زندگی کے دن بسر کرنے لگیں لیکن رشتے کی قرابت کی بناء پر وہ رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کفالت و سرپرستی میں رہیں۔

آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی امیمہ تھا جو حضرت عبدالمطلب جد رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی تھیں۔ اس لحاظ سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی پھوپھی زاد بہن تھیں جب یہ اس جہان رنگ و بو میں متولد ہوئیں تو اس وقت آقائے نامدار صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک 21 برس تھی۔ لازمی طور پر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنی گود مبارک میں کھلایا ہوگا۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے وہ پلیں، بڑھیں اور جوان ہوئیں، لہذا جب وہ مدینہ منورہ تشریف لائیں تو رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہی کفالت میں زندگی کے دن بسر کرنے لگیں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کو سیرت و صورت دونوں لحاظ سے بے حدو حساب نوازا تھا، نسوانی حسن و جمال اور سلیقہ شعاری میں اپنے دور کی کسی خاتون سے کسی نوع کم نہ تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کا قد مبارک نہایت مناسب تھا، موزوں اندام اور خوب صورت تھیں۔

حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بے شمار خوبیوں کی حامل تھیں، بڑی زاہدہ و عبادت گزار تھیں، شب بیدری فرماتیں اور اپنے رب کریم کی بارگاہ میں نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ سربسجود رہتی تھیں۔ ایک مرتبہ رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم مہاجرین میں کچھ مال تقسیم فرمارہے تھے، حضرت زینب رضی اللہ عنہا پاس کھڑی تھیں اس معاملہ میں خاموش رہنے کے لئے کہا تو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ان سے درگزر کرو، یہ اواہ ہیں یعنی خاشع و متضرع ہیں۔

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں:

حضرت زینب رضی اللہ عنہا نیک خو روزہ دار اور نماز گزار تھیں۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ فرمایا تھا:

میں نے کوئی عورت حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے زیادہ دین دار، زیادہ پرہیزگار، زیادہ راست گفتار، زیادہ فیاض، مخیر اور اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں زیادہ سرگرم نہیں دیکھی۔ مزاج میں قدرے تیزی تھی اگر کبھی ایسا ہوتا کہ مزاج کی تیزی دکھاتیں تو اس پر ان کو بہت جلد ندامت بھی ہوتی تھی۔

حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا زہد و تقویٰ و ورع میں یہ حال تھا کہ جب حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پراتہام لگایا گیا اور اس اتہام میں بذات خود حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی سگی بہن حضرت حمنہ رضی اللہ عنہا شریک تھیں۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے حضرت صدیقہ کائنات رضی اللہ عنہا کی اخلاقی حالت دریافت کی تو انہوں نے صاف الفاظ میں کہہ دیا:

’’مجھ کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بھلائی کے سوا کسی چیز کا علم نہیں‘‘۔

آپ رضی اللہ عنہا کو اپنے اللہ تبارک وتعالیٰ کی رحمت و عنایت پر بے پناہ بھروسہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شادی کے سلسلے میں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع و بھروسہ کیا تھا۔ خشیت الہٰی سے لرزاں و ترساں رہتی تھیں کہ کہیں کوئی قول و فعل اللہ کی رضا کے خلاف نہ ہوجائے۔ رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے جذبے سے بھی سرشار تھیں اس بات پر کامل یقین تھا کہ رشد و ہدایت، رضائے الہٰی اور اخروی انعامات کا واحد ذریعہ محبوب رب العالمین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہے اور جس دل میں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عشق نہیں وہ دل ویران ہے اور شیطان کی آماجگاہ ہے، اللہ تعالیٰ سے دور ہے، قابل نفریں ہے۔

سخاوت و فیاضی اور انفاق فی سبیل اللہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا طرہ امتیاز تھا اس لحاظ سے وہ یتیموں، بیوائوں، فقراء و مساکین کی پناہ گاہ تھیں۔ ایک مرتبہ رحمۃ للعالمین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضوان اللہ عنہن سے ارشاد فرمایا: تم میں سے وہ مجھے جلد ملے گی جس کا ہاتھ لمبا ہوگا۔

یہ الفاظ مبارک سنے تو سب امہات المومنین رضی اللہ عنہن اپنے ہاتھ کی لمبائی دیکھا کرتی تھیں لیکن اس سے مراد سخاوت و انفاق فی سبیل اللہ تھا اور اس میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا بہت آگے تھیں لہذا ہاتھ انہیں کے دراز تھے حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئی کا مصداق حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ثابت ہوئیں اور سرور کونین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اپنے رب کے پاس تشریف لے جانے کے بعد حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا ہی سب سے پہلے انتقال ہوا تھا بروایت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ’حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے وصال کی خبر سن کر مدینہ منورہ کے غریبوں، فقیروں اور مسکینوں میں کھلبلی مچ گئی تھی اور وہ گھبرا گئے۔‘

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا:

حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر میں نے کوئی خضوع و خشوع کرنے والا نہیں دیکھا۔

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

حضرت سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ایک خوب صورت خاتون تھیں، رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے آپ رضی اللہ عنہا کے پاس جایا کرتے تھے۔ صالح، روزہ دار اور شب بیدار تھیں۔

الغرض آپ رضی اللہ عنہا ان گنت خوبیوں اور اوصاف کی حامل تھیں، صدق و صفا کے سدا بہار پھولوں سے مزین تھیں، راست گو، قابل تعریف اور بے مثال تھیں اور یہ بھی شرف حاصل تھا کہ قدیم الاسلام تھیں۔

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ عالم عالمیان، ابد قرار صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ بولے بیٹے، غلام اور دوست تھے۔ ان کے والد حارثہ بنی قضاعہ سے تعلق رکھتے تھے جو یمن کا ایک نہایت معزز قبیلہ تھا، ان کی والدہ سعدی بنت ثعلبہ بن معن سے تھیں جو قبیلہ طے کی ایک شاخ تھی۔

حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے لئے حضرت زید رضی اللہ عنہ کا پیغام ملا تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا: یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں انہیں اپنے لئے پسند نہیں کرتی کیونکہ نسب کے لحاظ سے میں اس سے بہتر ہوں۔ علاوہ ازیں قریش خاندان کی ایک بیوہ ہوں۔ ان کے گھر والے بھی اس رشتہ کو پسند نہیں کرتے تھے اور ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہا اپنی بہن کے ہمنوا تھے۔ میں انہیں تمہارے لئے پسند کرتا ہوں۔

رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے فرمایا تو انہوں نے ادباً عرض کیا: یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بارے میں غور و فکر کے لئے مہلت عنایت فرمائیں۔ ایسی ہی باتیں ہورہی تھیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر حاضر ہوئے اور سورہ احزاب کی آیت نازل ہوئی جس کا ترجمہ ہے:

’’کسی مسلمان مرد و عورت کو حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم فیصلہ فرمادے، ان کو اپنے معاملہ میں کوئی اختیار رہے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی، بلاشبہ وہ کھلی گمراہی میں ہوا‘‘۔

جب اس آیت مبارکہ کو سیدہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا اور ان کے دونوں بھائیوں نے سنا تو فوراً بولے:

ہم راضی ہیں، ہماری کیا مجال کہ ہم اپنے اختیار کو درمیان میں لائیں اور معصیت کا ارتکاب کریں اور اطاعت کے لئے سرجھکادیا۔

اس کے بعد خود رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح پڑھایا اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کی طرف سے دس دینار اور ساٹھ درہم مہر کے طور پر ادا کئے۔ اس وقت تک حضرت زید رضی اللہ عنہ، حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر میں ایک فرد کی حیثیت سے رہتے تھے لیکن اس شادی کے بعد ان کی رہائش کے لئے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علیحدہ مکان کا بندوبست کیا اور اس نئے جوڑے کی ضروریات کے لئے کھانے پینے کے سامان کے علاوہ کپڑے بھی بھجوائے۔

رسول مقبول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے اپنی پھوپھی زاد حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی شادی کرنے سے اسلام نے دنیا میں جو مساوات کی تعلیم رائج کی اور پست و بلند کو جس طرح ایک جگہ لاکر کھڑا کردیا اگرچہ تاریخ میں کئی اور مثالیں بھی موجود ہیں لیکن یہ واقعہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے اس لئے ان سب پر فوقیت و تفوق رکھتا ہے کیونکہ اس سے عملی تعلیم کی بنیاد پڑی تھی۔ قریش اور خصوصاً خاندان ہاشم کی تولیت کعبہ کی وجہ سے عرب میں جو درجہ حاصل تھا اس کے لحاظ سے شاہان یمن بھی ان کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتے تھے لیکن اسلام نے محض تقویٰ کو بزرگی کا معیار قرار دیا اور فخرو غرور کو جاہلیت کا شعار ٹھہرایا اس لئے محبوب کبریائ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کے ساتھ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح کردینے میں کوئی تکلف نہیں ہوا۔

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت کی وجہ سے دولت علم و عرفان سے مالا مال تھے، بہادر و شجاع بھی تھے اور غزوات میں اپنی بہادری کے جوہر دکھائے تھے، سخاوت و امانت و دیانت میں بھی طرہ امتیاز رکھتے تھے، پیکر صبرو رضا تھے، صرف یہ واحد ہستی ہیں جن کا نام قرآن پاک میں آیا ہے لہذا تعلیم مساوات کے علاوہ اس نکاح کا ایک یہی مقصد تھا جیسا کہ اسدالغابہ میں مذکور ہے کہ رسول عربی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نکاح حضرت زید رضی اللہ عنہ سے اس لئے کیا تھا کہ ان کو قرآن و حدیث کی تعلیم دیں۔

رحمۃ للعالمین صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت زید رضی اللہ عنہ بڑے عزیز ومحبوب تھے جب کبھی ان کو نہیں دیکھتے تھے تو پوچھتے تھے۔ زید کہاں ہے؟ ایک دن آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت زیدکو تلاش کرتے ہوئے ان کے گھر تشریف لائے لیکن وہ گھر پر نہیں تھے۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے جب دیکھا کہ ماہ عرب و عجم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ہیں تو بے حد خوش ہوئیں، وہ محنت و دست کاری کا کام کرکے پیسے حاصل کرتی تھیں اور اس وقت وہ اپنے کام کے کپڑوں میں ملبوس تھی لہذا حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی خوشی میں وہ کام کے کپڑوں میں ہی تیزی سے تشریف لائیں۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی جانب سے منہ پھیر لیا، وہ بولیں۔

یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ گھر میں نہیں ہیں، آپ تشریف رکھیں، میرے ماں باپ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں۔ لیکن آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر کے اندر تشریف نہیں لے گئے اور وہیں سے واپس لوٹ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد جب حضرت زید رضی اللہ عنہا واپس گھر تشریف لائے تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: آج حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑا کرم فرمایا جو ہمارے گھر تشریف لائے تھے۔ تم نے ان کو بٹھایا کیوں نہیں؟ حضرت زید رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا۔ میں نے تو بیٹھنے کے لئے عرض کیا تھا مگر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے۔ پھر پوچھا: تم نے حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے کچھ سنا؟ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آہستہ سے کوئی کلمہ تو پڑھا تھا لیکن سمجھ میں نہیں آیا کیا تھا۔

بیوی سے اپنے آقا و مولیٰ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کا سنا تو واپس تشریف لے گئے اور سیدھا بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور بڑے ادب سے عرض کیا: یاحبیب اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے معلوم ہوا کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے تھے اندر کیوں نہیں آئے؟ تم کو دیکھنا تھا۔ اگرچہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے نکاح کرنا قبول کرلیا تھا لیکن ذہنی طور پر وہ انہیں اپنا ہم پلہ و ہمسر نہیں سمجھتی تھیں اور یہ وہ جذبہ تھا جس پر کسی کو اختیار نہیں تھا۔ وہ اسے غلام خیال کرتی تھیں لہذا طبیعتوں کے اختلاف کی وجہ سے ان دونوں میاں بیوی میں محبت و پیار نے راہ نہ پائی۔ طبیعت میں بھی قدرے تیزی تھی جبکہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بڑے حلیم الطبع اور بردبار تھے۔

حضرت زید رضی اللہ عنہ نے بارہا اپنے محسن و مربی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوکر تلخ و ناخوشگوار حالات کا تذکرہ کیا لیکن حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں صبروتحمل سے کام لینے کا فرمایا۔ ایک دن حضرت زید رضی اللہ عنہ اپنے آقا و مولا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی شکایت کی:

یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان، کیا میں زینب رضی اللہ عنہ کو طلاق دے دوں کیونکہ وہ میرے ساتھ بہت تند خوئی سے پیش آتی ہیں اور اپنی زبان دراز کرتی ہیں؟ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے بارے میں شکایت سن کر رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے آپ کو اس سے باز رکھو اور اللہ سے ڈرو۔

حضرت زینب رضی اللہ عنہا جن صفات واوصاف کی حامل تھیں، ان سے یہ بعید تھا کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ صورت حال پیش آتی۔ دراصل انہیں مشیت ایزدی سے ام المومنین کے خطاب سے نوازا جانا تھا اس لئے ایسی صورت پید اہوگئی تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس سے متبنیٰ بیٹے کے بارے میں جو عرب معاشرے میں غلط باتیں پائی جاتی تھیں ان کا قلع قمع کرنا مقصود تھا اور یہ اسی صورت میں ممکن تھا کہ حضرت زید رضی اللہ عنہ اپنی اس زوجہ محترمہ کو طلاق دے دیتے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا لہذا ایک سال کی ازدواجی زندگی کے بعد 5 ہجری میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے طلاق دے دی۔

ادھر حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا عدت کی مدت پوری کررہی تھیں اور ادھر رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسم تبنیّت کے متعلق قرن ہا قرن سے لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں جمے ہوئے خیالات کا مکمل طور پر خاتمہ کرنے کا اس سے بہتر اور کوئی موقع نہ تھا تاکہ شریعت حقہ کی طرف سے نکاح کے لئے حلال کردہ رشتوں کے بارے میں دلوں میں موجود کراہت و حرمت کے جو جاہلانہ تصورات جانگزیں ہیں انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے اور خود اس رسم جاہلیت پر کاری ضرب لگائیں۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بھی علم تھا کہ کفار و منافقین اور مخالفین حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے شادی کے بعد عجیب عجیب باتیں بنائیں گے اور اسے ایسا رنگ دیں گے جس سے مسلمانوں کے ذہنوں میں شک و شبہات جنم لیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا محبوب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی نوع کی ذہنی الجھن میں مبتلا ہو لہذا حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا اور وحی میں اپنے محبوب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی الجھن کو یہ فرماکر دور کردیا:

’’اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا ہے، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو‘‘۔

(جاری ہے)

ماخوذ از ماہنامہ دخترانِ اسلام، دسمبر 2015

تبصرہ