آسٹریلوی مسلم سکالر ڈاکٹر عبد الرزاق بلیک ہرسٹ کا منہاج یونیورسٹی لاہور میں خصوصی لیکچر

عصر حاضر سے اسلامی تصوف کا تعلق

لٹروب یونیورسٹی آف آسٹریلیا کے شعبہ آرٹس کے سربراہ ڈاکٹر عبد الرزاق بلیک ہرسٹ نے دی منہاج یونیورسٹی لاہور میں ایک علمی و تحقیقی لیکچر دیا ان کی گفتگو کا عنوان ’’ عصر حاضر سے اسلامی تصوف کا تعلق‘‘ تھا۔ ڈاکٹر عبد الرزاق نے تصوف کے تمام تر پہلوؤں کا احاطہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تصوف آج کے دور کی ضرورت ہے انہوں نے تاریخی حوالہ جات دیتے ہوئے کہا کہ تصوف کا انسانی مشکلات و مصائب کے حل کرنے میں ہمیشہ عمل دخل رہا ہے اور اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ انسان کا حتمی مقصد ’’غیر محدود‘‘ کا حصول ہونا چاہیے اور یہ صرف اور صرف تصوف کے راستے سے ہی ممکن ہے۔ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تصوف اسلامی معاشرہ کا ایک لازمی جزو تھا مگر اسلام کے کلاسیکل دور کے بعد تصوف اسلامی اقدار حیات سے خارج ہونا شروع ہو گیا۔ چنانچہ اب یہ غلط فہمی پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے کہ تصوف اسلام میں داخل نہیں ہے بلکہ یہ اسلام میں ایک نئی بات کا اضافہ ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ تصوف ہی اسلامی اقدار کی حقیقی اور دائمی اقدار سے بحث کرتا ہے جبکہ زندگی تغیر پذیر ہے اور تمام جدید فنی و تکنیکی ایجادات عارضی اور تغیر پذیر ہیں۔ چنانچہ عارضی چیزوں کو دائمی اقدار پر ترجیح نہیں دی جا سکتی اور دائمی اقدار ہی تصوف کا موضوع ہیں۔

تصوف کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر عبد الرزاق نے کہا کہ مذہب یا اسلام کا حقیقی مقصد بندے کا اپنے خالق حقیقی سے تعلق صرف اور صرف تصوف سے ہی ممکن ہے اور راہ تصوب تب ہی ملتی ہے جب ذکر اذکار مخصوص شرائط کے ساتھ کئے جائیں۔ پھر تصور انسان کو اپنے خالق و مالک کے ساتھ اسی دائمی رشتہ سے پیوستہ کر دیتا ہے جس میں کسی قسم کی بھول چوک اور نسیان وارد نہیں ہوتا۔ انہوں نے تصوف کو اسلام کا دل، روح، مرکز اور باطن قرار دیا اور کہا کہ اس کے بغیر اسلام کا ایک کھوکھلا اور بے جان وجود ہی رہ جاتا ہے۔ بین المذاہب ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زندگی کا ردھم تصوف کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتا ہے ایسے ہی تہذیبوں، مذاہب اور معاشروں میں مستقل بنیادوں پر ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے تصوف کی اہمیت کسی بھی طرح سے نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ لیکچر کے اختتام پر شرکاء محفل نے سوالات پوچھے اور معزز مہمان نے ان کے تسلی بخش جوابات دیئے۔ اس موقع پر مرکزی امیر تحریک مسکین فیض الرحمن خان درانی، جی ایم ملک، سمیع اللہ قادری، سید منظور احمد ترمذی، علامہ علی غضنفر کراروی اور ڈاکٹر کرامت اللہ بھی موجود تھے۔ تقریب کے اختتام پر بریگیڈیر ریٹائرڈ اقبال احمد خان نے ڈاکٹر عبد الرزاق بلیک ہرسٹ کا شکریہ ادا کیا۔

تبصرہ