جہیز کی شرعی حیثیت (آخری قسط)

جہیز کی شرعی حیثیت (قسط اول)

جہیز کی شرعی حیثیت (قسط دوم)

جہیز کی شرعی حیثیت (قسط سوم)

  • تکاثر:

تکاثر کا مطلب ہے راتوں رات امیر ہونا۔ اس ہوس نے آج کل جہیز پر اپنا اثر قائم کیا ہوا ہے۔ آج کل لڑکے والے امیر ہونے کی غرض سے ایسی لڑکی کو دلہن بنانا چاہتے ہیں جو بینک بیلنس، گاڑی اور جہیز ساتھ لائے۔ اس سے اخلاقی برائی عام ہورہی ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:

اَلْهٰـکُمُ التَّکَاثُرُ. حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ.

’’تمہیں کثرتِ مال کی ہوس اور فخر نے (آخرت سے) غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے‘‘۔

(التکاثر، 102: 1، 2)

  • ناجائز ذرائع کا استعمال:

جہیز کے حصول کے لئے انسان مال مال کی رٹ لگاتا ہوا مال حاصل کرنے کے جائز و ناجائز حربے استعمال کر ڈالتا ہے اور دھوکا، خیانت، رشوت جیسے بڑے امور کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے، اگر کوئی زیادہ ہی باضمیر ہو مگر اپنی حلال کمائی سے اپنی بیٹی کو جہیز نہ دے سکتا ہو تو قرض جیسے جال میں تو ضرور کہیں پھنس ہی جاتا ہے۔

  • شادی میں تاخیر:

جہیز شادی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے شادی میں تاخیر کی جاتی ہے اور معاشرہ میں بے راہ روی بڑھتی ہے۔

  • وراثت کے حق سے محرومی:

اکثر لوگ بیٹی کو جہیز دے کر وراثت کے حق سے دستبردار ہوجاتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔ جہیز ایک ہدیہ ہے جبکہ وراثت ایک حق ہے جو اللہ نے بیٹی کو عطا کیا ہے۔ مباح کام کے بدلے فرض کو ترک کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔

  • احساس کمتری:

مروجہ جہیز کی وجہ سے غربت و افلاس میں ڈوبے انسان احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی بیٹیوں کو اتنا کچھ دے نہیں پاتے اور اسی وجہ سے غریب لوگوں کی بیٹیوں کا کوئی رشتہ لینے کو تیار نہیں ہوتا کہ یہ غریب لڑکی کوئی جہیز لے کر نہیں آئے گی اس لئے غریب کی بیٹیاں گھر بیٹھ کر اپنے سروں کے بال سفید کرلیتی ہیں۔ اس ہندوانہ رسم نے شادی جیسے مقدس بندھن کو ہوس کی بھینٹ چڑھادیا ہے۔ شادی ایک بندھن کم بزنس زیادہ بن کر رہ گئی ہے کیونکہ آج اکثر لوگ صرف نیک سیرت پڑھی لکھی بہو کی تلاش نہیں کرتے بلکہ ایسی بہو کی خواہش کرتے ہیں جو ساتھ قیمتی گاڑی، قیمتی زیور اور سامان آرائش لائے۔

جہیز غریب والدین پر بوجھ ہے۔ جہیز لوگوں میں بغض و حسد کا باعث بنتا ہے۔ جہیز بھی گھریلو تنازعات کا باعث بنتا ہے۔جہیز کی لعنت نے شوہروں کو حریص بنادیا ہے۔

  • دلہن کی قدر میں کمی:

جہیز نے دلہن کی قدر کو کم کردیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم اپنی بیٹی کو زیادہ جہیز دیتے ہیں تو اسے سسرال میں بہت قدر ملے گی اور عزت بڑھے گی۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اس طرح عزت کی بجائے لالچ اور بڑھتا ہے۔ مرد، عورت کی خوبیوں کی بجائے جہیز پر نظر رکھتا ہے اور مزید مطالبے کرنا شروع کردیتا ہے۔ ایسے میں عورت بطور انسان کوئی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ وہ ایک جہیز بن جاتی ہے۔ اس کے کردار اور خوب سیرت اچھائیوں کو کوئی نہیں سراہتا بلکہ اس کے جہیز کی مقدار کو سراہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہیز نے والدین پر بیٹی کو بوجھ بنادیا ہے۔جہیز کی فرمائش اور طعنہ زنی سے تنگ آکر بعض لڑکیاں خودکشی بھی کرلیتی ہیں۔

خلاصہ بحث

جہیز کے سلسلے میں قرآن و سنت سے نہ کوئی صریح حکم اور نہ ہی ممانعت ملتی ہے اس لئے والدین کی طرف سے رخصتی کے وقت اپنی لڑکی کو مناسب جہیز جس میں نہ اسراف ہو،نہ قرض لیا گیا ہو اور نہ ہی نمود و نمائش ہو دینا مباح معلوم ہوتا ہے لیکن فرمائشی جہیز رشوت کے زمرے میں ہے اور وہ حرام ہے۔

دین اسلام میانہ روی کا دین ہے اور ہر کام کو نقطہ اعتدال پر سرانجام دینے کی ترغیب دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ رب العزت نے اپنی لاریب کتاب میں ارشاد فرمایا ہے:

وَالَّذِيْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا وَلَمْ يَقْتُرُوْا وَکَانَ بَيْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا.

’’اور (یہ) وہ لوگ ہیں کہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بے جا اڑاتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں اور ان کا خرچ کرنا (زیادتی اور کمی کی) ان دو حدوں کے درمیان اعتدال پر (مبنی) ہوتا ہے‘‘۔

(الفرقان، 25: 67)

اس لئے مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کو یا تو نہایت سادگی سے میانہ روی کے ساتھ ادا کیا جائے یا سرے سے ہی ختم کردیا جائے کیونکہ اس کے مفاسد اس کے مصالح سے زیادہ ہیں۔

رسم جہیز کے خاتمہ کیلئے تجاویز

ہم سے ہر شخص انفرادی طو رپر عہد کرلے کہ آئندہ ہم نہ تو جہیز لیں گے، نہ دیں گے اور نہ ہی ایسی شادیوں میں شرکت کریں گے جن میں جہیز کا لین دین ہو، خواہ وہ ہمارے کتنے ہی عزیز کیوں نہ ہوں۔

خاص طور پر دلہا اور اس کے گھر والے جہیز نہ مانگیں اور اس کے خلاف اصلاح جہاد کا اعلان کریں اور لڑکی کے والد کو سمجھادیں کہ یہ ایک ہندوانہ رسم ہے، اسلام میں اس کا ثبوت نہیں، اگرچہ ناجائز بھی نہیں آپ کرسکتے ہیں لیکن اگر آپ نہ کریں تو اس میں ہماری خوشی ہے۔ اس کے علاوہ دلہا جرات و ہمت سے کام لے کر اپنی والدہ اور بہنوں کو سمجھا دے کہ آنے والی بہو کو طعنہ نہ دیں۔

جہیز فاطمہ لوگوں نے کردیا مشہور
علاوہ ان کے کہاں اور تین کا مذکور؟

جہیز فاطمہ کی سنئے اب حقیقت بھی
جہیز ہی کے لئے تو زرہ علی کی بکی

دلہن کی خوشبو منگائی اسی رقم سے گئی
گر ہستی گھر کی بنائی اسی رقم سے گئی

لکھا ہے شامی نے یہ مسئلہ صراحت سے
کہ مرد گھر کی گرہستی بھی خود مہیا کرے

ہم غریب لڑکیوں کی شادیوں پر ’’مانگ تانگ‘‘ کر جہیز مہیا کرنے کو نیکی تصور کرتے ہیں حالانکہ نیکی یہ ہوگی کہ ہم لوگوں کی سوچ بدلیں خصوصاً لڑکیوں کو یہ باور کروائیں کہ جہیز لینا اور دینا دونوں اس معاشرے میں حرام کی حد کو پہنچ چکے ہیں اس لئے آپ حرام سے بچیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ شہر شہر، قریہ قریہ اورمحلہ محلہ ایسی تنظیمیں قائم کی جائیں جو جہیز کے خلاف عوام میں نفرت پیدا کریں اور رفتہ رفتہ ایسا ماحول پیدا ہوجائے کہ لوگ جہیز کا نام لیتے ہوئے شرمائیں اور جہیز کو ایک عیب سمجھا جانے لگے۔

  • علمائے کرام مساجد میں اپنے خطبات اور اجتماعی جلسوں میں جہیز کے خلاف علمی و عملی مثالیں پیش کرکے انہیں بغیر جہیز کی شادیوں پر ابھاریں۔
  • اساتذہ کرام سکول، کالج، یونیورسٹی، دینی مدارس میں بتدریج جہیز کو ایک ہندوانہ رسم اور ایک لعنت ثابت کرنے کے لئے دلائل دیں اور طالب علموں کو جہیز کے بغیر شادیوں کے لئے تیار کریں۔
  • حکومت کو چاہئے کہ وہ جہیز پر پابندی لگادیں اور اس قانون کو توڑنے والے کے لئے سزا مقرر کرے اور اس پر عمل بھی کیا جائے۔
  • ٹی وی، ریڈیو، اخبارات رسائل، انٹرنیٹ پر جہیز کے خلاف تحریک چلائی جائے اور وقتاً فوقتاً خصوصاً مذہبی مواقع مثلاً جمعہ وغیرہ کے دن علماء کرام اپنے خطابات میں اس کی مذمت بیان کریں۔

بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ صدیوں سے چلی آنے والی روایت کو بدلنا کیسے ممکن ہے؟ یا یہ کہ ہم بھی جہیز کے حق میں نہیں ہیں لیکن معاشرے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

سرسید احمد خان اپنے مضمون ’’رسم و رواج‘‘ میں لکھتے ہیں:

آپ بری روایت ہٹاکر اچھی روایت لاکر دیکھیں، اگر نئی روایت میں جان ہوگی تو وہ خود بخود اپنے آپ کو منواتی جائے گی۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ آہستہ آہستہ آپ کی تقلید میں نکل کھڑے ہوں گے۔

اس لئے ہمیں بہر حال بارش کا پہلا قطرہ بننا پڑے گا، پھر ان شاء اللہ قطرہ قطرہ مل کر دریا بن جائے گا اور ایک ایک گیارہ بن جائیں گے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا

اسلام سادگی کا دین ہے۔ اسلام کی نظر میں عورت کا بہترین جہیز اس کی بہترین تعلیم و تربیت ہے۔ جہیز سے تنگ آئے ہوئے ماں باپ کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

ماں باپ کے سر سے سختی اتر کیوں نہیں جاتی
یہ رسم جہیز آخر مر کیوں نہیں جاتی؟

حقیقتاً رسم جہیز مرے گی نہیں بلکہ ہمیں مل جل کر اسے مارنا ہوگا اور اس سلسلے میں سب سے زیادہ ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو امیر گھرانے ہیں کیونکہ جب تک وہ اس کے خلاف اقدام نہ کریں اس وقت تک تبدیلی لانا زیادہ مشکل ہے۔

ماخوذ از ماہنامہ دخترانِ اسلام، ستمبر 2016

تبصرہ