لاہور: پیغامِ امام حسین علیہ السلام کانفرنس

رپورٹ: ایم ایس پاکستانی

تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں پیغام امام حسین علیہ السلام کانفرنس 9 محرم الحرام کی شب منعقد ہوئی۔ مرکزی سبزہ زارہ میں ہونیوالا یہ پروگرام "سیدالشھداء سیدنا امام حسین علیہ السلام کی شہادت" کی یاد میں منعقد کیا گیا۔ کانفرنس میں تحریک منہاج القرآن کے مرکزی قائدین ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، سید علی غضنفر کراروی، شیخ زاہد فیاض، علامہ احمد نواز انجم، انوار اختر ایڈووکیٹ، ڈاکٹر شاہد محمود، خواجہ پیر غالب لاہوری، علامہ محمد عثمان سیالوی، شکیل احمد طاہر، پروفیسر ذوالفقار علی، صاحبزادہ محمد حسین آزاد اور دیگر موجود تھے۔ ان کے ساتھ ملک بھر سے نامور علماء و مشائخ اور بالخصوص اہل تشیع علماء و ذاکرین بھی یہاں موجود تھے۔ ملک بھر سے آنیوالے حاضرین میں بالخصوص اہل تشیع حضرات بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز نماز عشاء کے بعد تلاوت کلام پاک سے ہوا۔

کالج آف شریعہ سے نعت خواں حیدری برادران نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیش کی۔ منہاج نعت کونسل نے نعت خوانی کے ساتھ سیدالشھداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں نذرانہ سلام پیش کیا۔ بعد ازاں بلبل منہاج محمد افضل نوشاہی نے اپنے مخصوص انداز میں امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں ہدیہء منقبت پیش کیا۔



تحریک علماء پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ علی غضنفر کراروی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج صدیوں بعد بھی امام حسین علیہ السلام کے نام لیوا وقت کے یزید اور یزیدی قوتوں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ حسینی آواز آج بھی بلند ہو رہی ہے لیکن بعض شرپسند طاقتوں نے دنیا سے حسینی جذبہ و فکر کے ختم کرنیکی ٹھان رکھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امام حسین علیہ السلام کی قربانی تاریخ اسلام کا وہ باب ہے جو انمٹ اور لازوال و بے مثال ہے۔


تحریک منہاج القرآن کی طرف سے ناظم تربیت علامہ سید فرحت حسین شاہ نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن آج اسلام کا وہ پیغام پیش کر رہی ہے جس کی خاطر امام حسین علیہ السلام نے اپنی جان کا نذرانہ تک پیش کر دیا۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری شیعہ، سنی اور دیگر مذہبی و گروہی اختلافات کی بھرمار میں امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دے رہے ہیں۔



کانفرنس میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا ٹیلی فونک خطاب ہوا۔ اس موقع پر آپ نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام اور آپ کی اہل بیت نے کربلا میں اپنی پاک جانوں کا نذرنہ پیش کرکے رہتی دنیا تک اسلام کا چہرہ روشن کر دیا۔ آپ نے اہل بیت کے حوالے سے کہا کہ "اہل بیت" سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وآّلہ وسلم، حضرت فاطمۃ الزہرہ سلام اللہ علیھا، حضرت علی علیہ السلام، حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام ہیں۔ بعض لوگ صرف اہل بیت سے بغص کی وجہ سے اس کو صرف "زوجۃ الرسول" تک محدود کر دیتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔ اس بات کی دلیل کے لئے آپ نے متعدد قرآنی آیات اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے پیش کئے۔

آپ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا کو واقعہ کربلا کا پیشگی گواہ اس لئے بنایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نظر نبوت سے دیکھ رہے تھے کہ جب واقعہ کربلا رونما ہو گا تو اسوقت میری ازواج میں سے "حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنھا بھی موجود ہونگی۔ اس وجہ سے آپ نے حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنھا کو کربلا کی مٹی والی شیشی بھی دی اور ساتھ فرمایا کہ "جب یہ مٹی سرخ خون میں بدل جائے تو سمجھ لینا کہ میرے حسین علیہ السلام کو شہید کردیا گیا ہے۔ حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے 10 محرم الحرام کو آقا علیہ السلام کو خواب میں دیکھا اور آپ نے ایک سرخ خون والی شیشی پکڑی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں آج سارا دن کربلا میں تھا، بدبخت یزید نے میرے نواسوں کو شہید کر دیا۔ حسین اور اس کے جمیع اصحاب کا خون میں اس شیشی میں جمع کر کے لایا ہوں" اس حدیث مبارکہ کو آپ نے متعدد حوالوں سے بیان کیا۔ آپ نے مزید کہا کہ کہ یہ بات حق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعہ کربلا کے وقت وہاں موجود تھے۔

آخر میں آپ نے کہا کہ اسلام میں اس تصور کر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ یوم عاشور، شہادت امام حسین علیہ السلام اور محرم الحرام ہمیں امن کا درس دیتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آج ملک میں اس مقدس اور پاک مہینہ میں امن عامہ کی صورتحال خراب تر ہے، قتل و غارت، مذہبی گروہی، خانہ جنگی اور بالخصوص بم دھماکے اور خودکش حملے اسلام کی روح کے سراسر خلاف ہیں۔ ایسا کرنیوالے نہ مسلمان اور نہ انسان ہیں۔ آج ہمیں عاشور کے موقع پر عالمی امن کے قیام کا عہد کرنا ہے۔ کانفرنس کا اختتام نذرانہ عقیدت بحضور امام حسین علیہ السلام پیش کیا گیا۔

آخر میں ماہ جنوری میں گوشہء درود میں 4 کروڑ سے زاید پڑھا جانیوالا درود پاک بھی آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں بطور ہدیہ پیش کیا گیا۔ ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے رقت آمیز اختتامی دعا کروائی۔

تبصرہ