سفیرۂ کربلا فاتح کوفہ و شام سیدہ زینب سلام اللہ علیہا

تحریر: مصباح کبیر

غیر معمولی انقلابی صفات کی حامل شخصیت سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ آپ سلام اللہ علیہا کاروانِ کربلا کی وہ باکمال و بے مثال عظیم سپہ سالار ہیں جن کا نام آتے ہی نگاہیں بصد عجز و سلامی جھک جاتی ہیں، زبان صلوٰۃ و سلام کے نغمے الاپنے لگتی ہے، قلب و ذہن میں باطل کے خلاف ایک بغاوت جاگ اٹھتی ہے اور آوازِ حق بلند کرنے میں ایک فخر اور سرشارگی کے جذبات موجزن ہو جاتے ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہو! کہ یہ ذکرِ خیر سفیرہ کربلا سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کا ہے جنہیں تاریخ ثانی زہرہ کے لقب سے بھی جانتی ہے۔سفرِ کربلا ہو یا میدانِ کربلا، معرکہ کربلا کا دل خراش اور خون آشام منظر ہو یا اسیرانِ کربلا کی کوفہ و شام اور دمشق روانگی کی داستاں ؛ ہر موڑ پر ہمیں آپ کا مثالی کردار نظر آتا ہے۔

ہر مقام پر آپ ہمیں سیدنا امامِ حسین علیہ السلام کہ شانہ بشانہ دینِ مصطفوی کی محافظت میں سر بکف نظر آتی ہیں۔اللہ کے دین کی سر بلندی اور اعلائے کلمۃ الحق کی خاطر جب امامِ عالی مقام نے سوئے کربلا رختِ سفر باندھا تو سیدہ زینب سلام اللہ علیہا اپنے شوہر کی اجازت سے امامِ حسین علیہ السلام کے ہمراہ عازمِ سفر ہوئیں۔گو آپ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھیں کہ امامِ عالی مقام کا سفرِ کربلا ان فرامینِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت وصداقت کا ایک باب ہے جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امامِ حسین علیہ السلام کی شہادت کے حوالے سے فرمائے تھے۔جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اخبرنی جبرئیل ان ابنی الحسین یقتل بعی بارض الطف و جاء نی بهذه التربته فاخبرنی ان فیها مضجعه.

’مجھے جبرئیل امین نے خبر دی کہ میرا بیٹا حسین میرے بعد زمینِ طف میں قتل کر دیا جائے گا اور جبرئیل میرے پاس (اس زمین کی) یہ مٹی لائے ہیں اور انہوں نے مجھے بتایا کہ یہی مٹی حسین کا مدفن ہے۔‘

(سر الشهاد تین، 24)

زبانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شہادتِ حسین کی خبر اس بات کا پیغام تھی کہ کربلا سے واپسی پر امامِ عالی مقام کاروانِ کربلا کے ساتھ نہ ہوں گے۔ گویا یہ سفر ابتلا و آزمائش اور مصائب و آلام کا سفر تھا لیکن قربان جائیں سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی جرات اور عزم و استقلال پر کہ آپ سلام اللہ علیہا نے نہ صرف بھائی کے ساتھ سوئے کربل جانے کا ارادہ فرمایا بلکہ نانا کے دین کی محافظت اور سر بلندی کی خاطر اپنے دو معصوم بچوں عون و محمد کو بھی شاملِ سفر کیا اور میدانِ کربلا میں جب جانثارانِ حسین اپنی جانوں کے نذرانے امامِ حسین علیہ السلام کے مقدس مشن کی تکمیل کے لیے لوٹا رہے تھے تو سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے دونوں بیٹے عون و محمد علیہما السلام کو بھی پیش کیا۔

معرکہ حق و باطل اور مبارزت خیرو شر میں خاندانِ نبوت کے تمام جانثاران ایک ایک کر کے جامِ شہادت نوش کر چکے تھے۔ یہ وہ لمحات تھے جب گلشنِ زہرا کے تمام پھول ریگ زارِ کربلا میں خاک و خون میں لت پت تھے۔ان دل سوز حالات میں سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے امامِ عالی مقام کے گھوڑے کی لگام تھامی اور بھائی کی ڈھارس بندھاتے ہوئے کارزارِ کربلا روانہ کیا۔ (الطبری، 6: 33)

کربلا کے اس تپتے ریگزار میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جورو جفا اور ظلم و ستم کی انتہا کی گئی۔ جس پر زمین و آسمان نے خون کے آنسو بہائے اور کائنات پر تاریکی چھا گئی۔ان حالات میں سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے جرات و بہادری اور عزم و استقلال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا اور انتہائی جوانمردی کے ساتھ قافلہ حسینی کی مستورات، بچوں اور بیمارِ کربلا امام زین العابدین کی دیکھ بھال اور محافظت کا فریضہ سر انجام دیا۔

سانحہ کربلا کے وقوع سے اگلی صبح عمر بن سعد نے حضرت امام حسین ص کے بقیہ خاندان اور عورتوں کو ہودجوں میں سوار کر کے کوفے بھیج دیا۔ یہ قافلہ جب میدان کارزار سے گزرا اور انہوں نے حضرت امام حسین ص اور آپ کے ساتھیوں کی بے گورو کفن لاشیں دیکھیں تو ان کی چیخیں نکل گئیں۔ ان کے رونے میں اتنا درد تھا کہ کلیجے پھٹے جا رہے تھے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے انتہائی درد وکرب کے ساتھ روتے ہوئے کہا:

’اے اللہ کے رسول آپ کی دہائی ہے، دہائی ہے دیکھئے یہ حسین علیہ السلام چٹیل میدان میں خون سے لتھڑے ہوئے اعضاء بریدہ پڑے ہیں۔ اے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !آپ کی دہائی ہے کہ آپ کی بیٹیاں اسیر ہیں، آپ کی اولاد کے لاشے بے گورو کفن پڑے ہیں اور ہوائیں ان پر خاک اڑا رہی ہیں۔‘

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی یہ دلدوز فریاد سن کر دوست دشمن سب رو پڑے۔

(البدایه و النهایه، 8: 193، طبری، 6: 33)

حضرت امام حسین ص کے سر مبارک کے بعد اہل بیت نبوت کے بقیہ افراد کو ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے معمولی لباس پہنا ہوا تھا اور لونڈیوں کے جھرمٹ میں تھیں اس لئے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ جب انہیں ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گا تو اس نے پوچھا ’’یہ کون ہے؟‘‘ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کچھ نہ بولیں۔ اس پر ایک لونڈی نے کہا ’’یہ زینب بنتِ علی ہیں۔‘‘ ابن زیاد بولا ’’اللہ کا شکر ہے جس نے تمہیں رسوا اور قتل کیا اور تمہارے دعوے کو جھوٹا کیا ’’حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا:

’بلکہ سب سے زیادہ ہمیں عزت بخشی اور پاک و طاہر بنایا۔ بلاشبہ اللہ فاسق کو رسوا کرتا ہے اور فاجر کو جھٹلاتا ہے۔‘

ابن زیاد نے کہا ’’ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے تمہارے اہل بیت کے ساتھ کیا سلوک کیا؟‘‘ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا:

’ان کے لئے شہادت مقدر ہو چکی تھی۔ اس لئے وہ اپنی شہادت گاہ کی طرف خود نکل کر آ گئے۔ عنقریب وہ اپنا معاملہ اللہ کی عدالت میں پیش کریں گے‘۔

(البدایه والنهایه، 8: 193)

آپ نے ابنِ زیاد کی ظاہری شان و شوکت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس انداز سے گفتگو فرمائی کہ مسندِ اقتدار پر براجمان ہونے کے باوجود اس میں اتنی جرات نہ ہو سکی کہ آپ کے خلاف کوئی کارروائی کر سکے۔ ابنِ زیاد کے قصرِ امارت کے بعد اسیرانِ کربلا کا یہ قافلہ دمشق میں یزید کے دربار میں پہنچا تو وہ بدبخت اس وقت مسندِشاہی پر بیٹھا ہوا تھا۔ہوسِ اقتدار کا پجاری ظاہری کامیابی دیکھ کر کر اس زعمِ باطل میں مبتلا تھا کہ اس نے آلِ رسول پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ کر کوئی بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے مگر اس کا یہ زعمِ باطل اس وقت محض خام خیالی ثابت ہوا جب حیدرِ کرار کی بیٹی فاتح کوفہ و شام سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے دربارِ یزید میں جرات مندی کے ساتھ خطاب فرمایا جسے سن کر دربارِ یزید میں موجود ہر ایک شخص کی روح تک کانپ گئی اور چند ثانیے قبل اپنی طاقت اور قوت پر اترانے والے یزید کو یوں لگا کہ ظاہری طور پر سب کچھ مل جانے کے باوجود وہ سب کچھ ہار چکا ہے۔ اسے اپنا اقتدار خطرے میں محسوس ہونے لگا۔

گویاآپ نے اپنی شعلہ بار تقاریر سے ابنِ زیاد و یزید اور اس کے حواریوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا اور ان کی نیندیں حرام کر دیں۔ آپ کے خطبات اور تقاریر اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تمام مصائب اور آلام آپ کے پایہ استقلال کو متزلزل نہ کر سکے۔ایسے سخت اور کٹھن حالات میں ایک دل شکستہ اور غمگین خاتون نے جس فصیح و بلیغ انداز میں قصرِ یزید و ابنِ زیاد میں دنیا کی کم مائیگی اور بے ثباتی کو بیان کیا اور طاقت و قوت اور اقتدار کے نشے میں ان بد مست فرعونوں کو ان حقیقت یاد دلائی بلاشبہ آپ کی قوتِ ایمانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

بھٹک رہا تھا دماغِ انسانیت، جہالت کی تیرگی میں
جہنم کے اندھے بشر کو رستہ دکھا گئی ہے علی کی بیٹی

ابد تک نہ سر اٹھا کے چلے گا کوئی یزید زادہ
غرورِ شاہی کو خاک میں یوں ملا گئی ہے علی کی بیٹی

فصاحت و بلاغت کی عظیم دولت و نعمت سے بہریاب سیدہ زینب بنتِ علی تاریخِ اسلام کے ماتھے کا جھومر ہیں۔آپ نے میدانِ کرب و بلا، سفرِ کوفہ و شام اور تادمِ حیات عزم و استقلال اور بہادری کی ایک لازوال داستاں رقم کی۔ آپ کی آنکھوں نے وہ دل سوز مناظر دیکھے جن کے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔مگر آپ نے اپنے فرضِ منصبی کو نبھاتے ہوئے انقلابِ کربلا کے پرچم کو سر بلند کیا۔ آپ حق و باطل، سچ اور جھوٹ، ایمان ا ور کفر اور عدل ا ور ظلم کے درمیان حدِ فاصل کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ زینب فقط ایک ماں، بہن یا بیٹی کے کردار کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے کردار کا نام ہے جس نے لاتعداد کرداروں کو ایک سانچے میں ڈھالتے ہوئے دینِ حق کی سربلندی میں عورت کے عظیم کردار کی وضاحت کی ہے۔

آپ کی شان، فضائل و مناقب اور آپ کے مقام و مرتبہ کو بیان کرنے کے لیے ایک دفتر درکار ہے ۔ امامِ حسین نے دینِ مصطفوی کی بقاء و دوام کے لیے اپنے خون سے میدانِ کرب و بلا میں جو داستاں رقم کی اسے تا قیامِ قیامت دوام و ہمیشگی بخشنے کا سہرا فاتح شام و کوفہ زینب بنت ِ علی کے سر جاتا ہے۔آج اسلام کی جو متاع جمہوری قدروں، آزادی اظہار، جاہ حشمت اور نفاذِ شریعت کی مسلسل جدوجہد کی صورت میں نظر آرہی ہے یہ سب پسرِ علی امامِ حسین علیہ السلام اور دخترِ علی سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی مرہونِ منت ہے۔

سلام ان پر جنہیں دائمی حیات ملی
سلام ان پہ، ہوئی موت جن سے شرمندہ

سلام خانہ زہرا سلام اللہ علیہا ترے چراغوں پر
بجھے ہیں شمعِ رسالت کی روشنی کے لیے

ماخوذ از ماہنامہ دخترانِ اسلام، ستمبر 2018ء

تبصرہ