اسلام کے ورلڈ آرڈر میں حیوانوں کے حقوق بھی متعین کئے گئے ہیں

مرتبہ: ماریہ عروج

کتاب کا عنوان:

انسانی حقوق دور جدید کا اہم ترین موضوع ہے۔ موجودہ دور میں تہذیبوں کی جانچ کا پیمانہ انسانی حقوق کو قرار دیا جاتا ہے لیکن صد افسوس کہ حقوق کے نعرے لگانے والے خود انسانی تقدس کی پامالی کرتے ہیں۔ جتنے بھی ورلڈ آرڈر آئے، اگر ان کا بنظر غائر مطالعہ کیا جائے تو ہر کسی کا مقصد سپر پاور بن کر دنیا پر قبضہ کرنا تھا اور اس کی کوششیں بھی ہوتی رہیں۔ پوری دنیا پر قبضہ کی خواہش رکھنے والے انسانی حقوق تو درکنار انسانیت کے معیار سے بھی گرگئے ہیں۔ دور جدید میں انسانی حقوق کی اصطلاح کے استعمال کے حوالے سے اس کتاب میں درج ہے:

انسانی حقوق بنی نوع انسان کے حقوق اور آزادیوں سے عبارت ہیں اصطلاحی طور پر انسانی حقوق کا استعمال نسبتاً نیا ہے اور یہ دوسری جنگ عظیم اور 1945ء میں اقوام متحدہ کی تاسیس سے متداول ہے۔ یہ اصطلاح فطری حقوق کے متبادل کے طور پر وجود میں آئی جو اس بناء پر متنازعہ فیہ بن گئی کہ آدمیوں کے حقوق کی مترادف اصطلاح کا اطلاق عالمی سطح پر عورتوں کے حقوق پر نہیں ہوسکتا تھا لہذا یہ زیادہ دیر تک رائج نہ رہ سکی۔

(اسلام میں انسانی حقوق، ص: 83)

اس کے برعکس اسلام نے جو ورلڈ آرڈر دیا، اس نے نہ صرف حقوق کا تفصیلی تعارف کرایا بلکہ ریاست مدینہ میں حقوق انسانی کی پاسداری کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔

ہمیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کی سماجی سرگرمیوں میں نمایاں ترین ابتدائی سرگرمی حقوق انسانی کے لیے جدوجہد ہی نظر آتی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی پیغمبرانہ جدوجہد اور آپ کا عطا کردہ اسلامی قانون معاشرت و مملکت اپنی روح کے لحاظ سے حقوق انسانی کے تحفظ کا ضامن ہے۔ زیر مطالعہ کتاب میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اسلام کے اسی زریں پہلو کے مختلف گوشوں پر بحث کی ہے۔

اس کتاب کے چار حصے ہیں۔ حصہ اول میں تین ابواب ہیں۔ ان ابواب میں اسلام میں انسانی حقوق کا بنیادی تصور بیان کرتے ہوئے اسلام اور مغربی تصور حقوق کا قابل کیا گیا ہے۔ حصہ دوم بنیادی انسانی حقوق کو محیط ہے۔ حصہ سوم میں انسانی حقوق کے عالمی چارٹر خطبہ حجۃ الوداع کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے جبکہ حصہ چہارم میں انسانی حقوق سے معلق دیگر دستاویزات کا تذکرہ ہے۔ ان دستاویزات میں میثاق مدینہ، خطبہ حجۃ الوداع اور خطبہ فتح مکہ شامل ہیں۔

اہمیت کتاب:

آج جب عالمی سطح پر اسلام کے دامن کو انسانی حقوق جیسے تصورات سے عاری تصور کیا جارہا ہے، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اسلام کے اس پہلو کو دلائل و براہین سے واضح کیا۔ آپ کی اس تصنیف میں حقوق انسانی کے فکری، نظری اور قانونی وعملی پہلوئوں کا جامع احاطہ کرکے اس امر کو پایہ ثبوت تک پہنچادیا گیا کہ اسلام نہ صرف حقوق اسلامی کی عملی جدوجہد کا پیش رو ہے بلکہ انسانی حقوق کی مستحکم فکری ونظری اساس بھی فراہم کرتا ہے۔ اس اساس پر انسانی تکریم کی وہ عمارت کھڑی کی جاسکتی ہے جو پائیدار ہو اور کمزور طبقات کے استحصال کے امکانات کو بھی مسدود کرتی ہو۔ اسلام میں حقوق کی بنیاد تکریم بنی آدم سے رکھی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیٓ اٰدَمَ.

’’اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی‘۔

(بنی اسرائیل، 17: 70)

اس کتاب کے دیباچہ میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری رقمطراز ہیں:

اسلام میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطا کردہ ہیں واضح طور پر متعین کیا گیا ہے اور یہ مقدس اور ناقابل تنسیخ ہیں۔ ان حقوق کو کسی طرح اور چاہے کوئی بھی حالات ہوں نہ تو واپس لیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان میں کوئی تبدیلی، ترمیم یا تخفیف کی جاسکتی ہے اور نہ ہی انہیں معطل کیا جاسکتا ہے۔ کوئی بادشاہ، سربراہ ریاست، حاکم اعلیٰ یا مقننہ ان حقوق کو پامال کرنے کی مجاز نہیں۔ تاہم اسلامی ریاستوں کے قانون ساز اداروں کو یہ اختیارات حاصل ہیں کہ وہ تبدیل شدہ اقتصادی، معاشرتی حالات کے پیش نظر تفویض شدہ حقوق میں مزید اضافہ کرسکیں بشرطیکہ اضافہ شدہ حقوق قرآن و سنت کے احکام کے منافی نہ ہوں۔ اسلام کے عطا کردہ حقوق عالمگیر نوعیت کے ہیں اور وہ کسی ریاست کے شہریوں تک محدود نہیں۔ دنیا بھر کے مسلمان اور غیر مسلم شہری بلا امتیاز ان سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

(اسلام میں انسانی حقوق، ص: 45)

کتاب کا خلاصہ:

اسلام جملہ شعبہ ہائے حیات میں اعتدال اور توازن کا درس دیتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کردہ انسانی حقوق بھی اسی روح سے مملو ہیں۔ اسلام مطالعہ حق (Demand of Rights) کی بجائے ایتائے حق (Fulfilment of Rights) کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام کی بنیادی تعلیم یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اوپر عائد دوسرے افراد کے حقوق کی ادائیگی کے لیے کمر بستہ رہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانی حقوق کا ایسا نظام عطا کیا ہے جہاں حقوق و فرائض میں باہمی تعلق و تناسب پایا جاتا ہے۔ یعنی کوئی شخص اپنے فرائض پورے کئے بغیر حق کا مطالبہ نہ کرے۔ انسانی حقوق کا یہ نظام عدل و انصاف اور توازن و تناسب کی اس روح کا حامل ہے جو معاشرے کو حقیقی امن کا گہوارہ بناتے ہوئے ایک فلاحی مملکت کی حقیقی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام اور مغرب دونوں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ تاہم انسانی حقوق کے مسئلہ پر دونوں کا نظریاتی اختلاف ہے۔ اسلامی فکر و عمل انسانی حقوق کو انسان کے اللہ تعالیٰ سے تعلق عبدیت کے نقطہ نظر سے دیکھتی ہے جبکہ انسانی حقوق کا مغربی تصور لادینی (Secular) ہے۔ یہ انسان کے بطور شہری ریاست سے تعلقات پر مبنی ہے۔ اس بنیادی فرق کی بنا پر اسلامی اور مذہبی فکر میں انسانی حقوق پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ اسلام میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کو جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطا کردہ ہے، واضح تعین کیا گیا ہے اور یہ مقدس اور ناقابل تنسیخ ہیں جبکہ مغرب میں ان حقوق کو لوگ بڑی کشمکش اور عظیم جدوجہد کے بعد اپنے حکمرانوں سے حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ حقوق جو قانون ساز اداروں کے دیئے ہوئے ہیں، انہیں اکثر پامال کیا جاتا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کے باب میں اسلام کے عطا کردہ اصول زیادہ جامع، مفصل اور موثر ہیں۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اس کتاب میں لکھتے ہیں:

اسلام نے حقوق کی حقوق اللہ اور حقوق العباد میں درجہ بندی کی ہے۔ اول الذکر وہ حقوق ہیں جن کا مفاد اجتماعی طور پر سب کو محیط ہے جبکہ ثانی الذکر وہ ہیں جو انفرادی سطح پر انسانوں کے فائدے کو مدنظر رکھتے ہیں یا کسی خاص فرد کے مفاد یا حق سے متعلق ہوتے ہیں۔ جہاں تک حقوق اللہ کا تعلق ہے ان کا نفاذ ریاست یا مسلم معاشرے کی ذمہ داری ہے جبکہ حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کا نفاذ ریاست یا مسلم معاشرے کی ذمہ داری ہے جبکہ حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق کا نفاذ اس فرد کی صوابدید پر رکھ دیا گیا ہے جس کی حق تلفی ہوئی ہے۔ یہ ممکن ہے کہ بعض افعال کسی اجتماعی حق کو جنم دیتے ہیں، دوسروں کی نسبت بعض افراد کو زیادہ متاثر کرتے ہیں لیکن یہ حقیقت ان افراد کو استحقاق نہیں دے گی کہ وہ حق تلفی کرنے والے کے افعال سے اغماض اور چشم پوشی کریں۔ تاہم یہ اس متاثرہ فرد کی مرضی اور صوابدید پر ہے جس کے نجی حق کو اس سے نقصان پہنچا ہے کہ وہ چاہے تو حق تلفی کرنے والے کو معاف کردے یا اس کی تلافی کے لیے چارہ جوئی کرے۔

(اسلام میں انسانی حقوق، ص: 47)

مغربی و اسلامی تصور کا تقابل:

مذکورہ کتاب مغربی و اسلامی تصور قانون نہایت مدلل انداز میں تقابل کیا گیا ہے مثلاً غلامی و محکومی کے حوالے سے مغربی و اسلامی نقطہ نظر یوں بیان کیا گیا ہے:

مغربی قانون کا تصور:

یورپی کنونشن برائے تحفظ حقوق انسانی European Convention for the protection of Human Rights, 1950 کے آرٹیکل 4 کے مطابق:

  1. کسی کو غلامی اور محکومی کی حالت میں نہیں رکھا جائے گا۔
  2. کسی کو مجبور نہیں کیا جائے گا کہ وہ جبری اور بیگار کی مشقت کرے۔
  3. اس آرٹیکل کے مقصد کے لیے جبری یا لازمی مشقت کی اصطلاح میں درج ذیل امور شامل نہ ہوں گے:

(ا) کوئی کام جو عام نظر بندی کے عرصہ میں کیا جانا درکار ہو اور اسے آرٹیکل نمبر5 کی شقوں کے مطابق مسلط کیا گیا ہو یا نظر بندی سے مشروط رہائی کے دوران کیا جائے۔

(ب) فوجی نوعیت کی کوئی خدمت یا باشعور معترضین کے معاملے میں ان ملکوں میں جہاں انہیں تسلیم کیا جاتا ہو ان سے جبری فوجی خدمت کی بجائے کوئی اور خدمت لی جائے۔

(ج) کوئی خدمت جو کسی ہنگامی صورت حال میں یا آفات سماوی کے دوران لی جائے جس سے اجتماعی زندگی اور فلاح و بہبود کو خطرہ لاحق ہوگیا ہو۔

(د) کوئی کام یا خدمت جو معمول کی شہری ذمہ داریوں اور فرائض کا حصہ ہو۔

اسلامی قانون کا تصور:

(ا) انسان آزاد پیدا ہوا ہے۔ اس کی آزادی کے حق میں کوئی مداخلت اور روک ٹوک نہیں کی جائے گی سوائے اس کے جو قانون کے عمل کے دوران کسی مجاز اتھارٹی کی طرف سے عائد کی جائے۔

(ب) تمام لوگ یکساں نوعیت کے کام کے لیے یکساں مزدوری اور معاوضہ کے حقدار ہوں گے۔

(ج) اسلام کام اور کارکن کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مسلمانوں کو اس امر کی تلقین کرتا ہے کہ کارکن سے صرف انصاف ہی نہیں بلکہ فیاضانہ سلوک روا رکھے۔ اس کی مزدوری نہ صرف بلاتاخیر ادا کی جائے بلکہ وہ اس کے لیے مناسب آرام اور فراغت کا بھی حقدار ہے۔

اس کتاب میں مذکور بنیادی انسانی حقوق درج ذیل ہیں:

انفرادی حقوق:

زندگی کے تحفظ کا حق، انسانی جان کی حرمت کا حق، رحم مادر میں جنین کا حق، عزت نفس کا حق، عزت کی حفاظت کا حق، نجی زندگی کے تحفظ کا حق، شخصی رازداری کا حق، سلامتی کا حق، سماجی مساوات کا حق، قانونی مساوات کا حق، حصول انصاف کا حق، آزادانہ سماعت کا حق، دوسروں کے جرائم سے برات کا حق، صفائی پیش کرنے کا حق، آزادی کا حق، مریض کا حق، ملکیت کا حق، تعلیم کا حق، معاہدہ کرنے کا حق، ازدواجی زندگی کا حق، خاندان کے قیام کا حق، میت کا حق۔

اجتماعی حقوق:

والدین کے حقوق، اولاد کے حقوق، بیوی کے حقوق، بیوہ کے حقوق، ورثاء کا حق، رشتہ داروں کے حقوق، ہمسائے کا حق، یتیم کا حق، بے سہاروں کا حق، مقروض کا حق، مسافرکا حق، بیمار کا حق، مہمان کا حق، سیاسی حقوق، اقتصادی حقوق، غلام کے حقوق، قیدیوں کے حقوق۔

مختلف طبقات معاشرہ کے حقوق:

خواتین کے حقوق، عمر رسیدہ افراد کے حقوق، بچوں کے حقوق، معذور افراد کے حقوق، غیر مسلموں کے حقوق۔

ماخوذ از ماہنامہ دخترانِ اسلام، دسمبر 2018ء

تبصرہ