
منہاج القرآن ویمن لیگ کے دورہ سندھ بسلسلہ میلاد النبی ﷺ کانفرنسز کے چوتھے روز مرکزی وفد محترمہ عائشہ مبشر (ممبر کوآرڈینیشن کونسل زونل ناظمہ سندھ خیبر پختونخواہ ہزارہ)، نائب ناظمہ دعوت و تربیت محترمہ رافعہ فاطمہ اور مرکزی منہاج نعت کونسل نے ضلع نواب شاہ کی تحصیل دوڑ میں منعقدہ محفل میلاد النبی ﷺ میں شرکت کی۔
محترمہ رافعہ فاطمہ کی قیادت میں مرکزی منہاج نعت کونسل نے روح پرور محفل نعت و منقبت منعقد کی جس نے شرکاء خواتین کے دل و دماغ کو پرنور اور عشق رسول ﷺ سے معمور کردیا۔ بعد ازاں محترمہ عائشہ مبشر نے شرکاء خواتین سے محبت و اتباع رسول ﷺ کے حوالے سے گفتگو کی انہوں نے اطاعت و اتباع کو محبت رسول ﷺ کا دوسرا مگر اہم ترین تقاضہ قرار دیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں اتباع اور اطاعت کے فرق اور ربط کو واضح کرتے ہوئے بتایا اطاعت کا تعلق احکام کے ساتھ ہے جبکہ اتباع کا تعلق ذات کے ساتھ ہے۔ جب احکامات پر عمل پیرا ہونے لگیں تو سمجھیں کہ اطاعت رسول ﷺ کا فیض مل رہا ہے۔ جب آقا کریم ﷺ کی ذات اقدس سے جڑنے لگیں تو سمجھیں آقا کریم ﷺ کی قربت کا فیض مل رہا ہے اطاعت رسول ﷺ کے ذریعے شریعت محمدی ﷺ مستحکم ہوتی ہے جبکہ اتباع کے ذریعے محبت و قربت مصطفی ﷺ مستحکم اور مکمل ہوتی ہے۔ اطاعت رسول ﷺ کے ذریعے دین کا ظاہر مکمل ہوتا ہے اور اطاعت رسول ﷺ سے دین کی نسبت مضبوط ہوتی ہے جبکہ اتباع کے ذریعے حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نسبت مضبوط ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم تعلق و نسبت رسول ﷺ میں کمزور ہو چکے ہیں جس کے سبب ہمہ جہتی زوال ہمارا مقدر بن چکا ہے۔ اس زوال سے نکلنے کا راستہ بھی اللّٰہ تعالٰی نے ہمیں عطا فرمایا ہے اللّٰہ رب العزت نے ارشاد فرمایا وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِیۡکُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ؕ لَوۡ یُطِیۡعُکُمۡ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الۡاِیۡمَانَ وَ زَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ وَ کَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الۡکُفۡرَ وَ الۡفُسُوۡقَ وَ الۡعِصۡیَانَ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الرّٰشِدُوۡنَ "اور جان لو کہ تم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں، اگر وہ بہت سے کاموں میں تمہارا کہنا مان لیں تو تم بڑی مشکل میں پڑ جاؤ گے لیکن اللہ نے تمہیں ایمان کی محبت عطا فرمائی اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ فرما دیا اور کفر اور نافرمانی اور گناہ سے تمہیں متنفر کر دیا، ایسے ہی لوگ دین کی راہ پر ثابت اور گامزن ہیں"۔
اس آیت کریمہ میں اللّٰہ رب العزت اہل ایمان کو فرما رہے ہیں کہ یہ بات ہمیشہ تمہارے پیش نظر رہے اور تمہاری توجہ اس نعمت پر رہے کہ تم میں رسول اللہ موجود ہیں اور یہ کتنا محبت بھرا پیغام ہے جو اللہ رب العزت نے اپنے محبوب علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان اقدس سے ادا کروا کر آپ کے غلاموں اور عاشقوں کو سنایا ہے وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِیۡکُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ؕکام مطلب یہ ہے کہ میرے محبوب کا وجود ہی تم میں کافی ہے اگر اطاعت کے راستے سے تم میرے محبوب کے قریب ہونا چاہتے ہو تب بھی رسول اللّہ تم میں موجود ہیں اور اگر محبوب علیہ الصلوۃ والسلام کی سنتوں کو اپنا کر محبوب کے اسوہ اور قدوہ پر عمل پیرا ہو کر ان کے قریب ہونا اور ان کو اپنا محبوب بنانا چاہتے ہو تب بھی رسول اللّہ ﷺ تم میں موجود ہیں اگر احکامات شریعت پر عمل پیرا نہ ہونا چاہتے ہو تب بھی رسول اللّہ تم میں موجود ہیں اگر دین اور معاشرے کو استحکام دینا چاہتے ہو تب بھی رسول اللّہ تم میں موجود ہیں اگر اپنے معاشرے کو مصطفوی بنانے خرافات و فحاشی و عریانی کو ختم کر کے اس کو پاک صاف کرنا چاہتے ہو تب بھی رسول اللّہ تم میں موجود ہیں اگر خدا تک پہنچنا چاہتے ہو تب بھی رسول اللّہ تم میں موجود ہیں۔
آیت کا دوسرا حصہ کہ لَوۡ یُطِیۡعُکُمۡ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ اگر وہ بہت سے کاموں میں تمہارا کہنا مان لیں تو تم بڑی مشکل میں پڑ جاؤ گے ہماری معاشرتی زبوں حالی کی عکاسی کر رہا ہے کہ ہم کیوں تباہ ہو رہے ہیں؟ ہمارا تعلق باللّٰہ بالرسول ﷺ کیوں کمزور ہو رہا ہے؟ ہمارا تعلق بالقرآن، تعلق بالعلم کیوں کمزور ہو رہا ہے؟ ہماری نسبت رسالت کیوں کمزور ہو رہی ہے؟ ہم اطاعت و اتباع رسول ﷺ میں کیوں کمزور ہو رہے ہیں؟
آیت کے تیسرے حصے وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الۡاِیۡمَانَ سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ اللہ ایمان کی بدولت مشکلات سے بچاتا ہے یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے ہمارے لیے ایمان کو منتخب فرمایا ہے اور اس ایمان کی زینت اور نعمت سے ہمارے دلوں کو مزین و منور کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت نے ایک اور الوہی انتظام بھی کر دیا کہ کفر نافرمانی اور گناہوں کو ہمارے لیے قابل نفرت عمل بنا دیا یعنی اللہ رب العزت نے ہمیں ایک طرف ایمان کی نعمت سے نوازا تو دوسری طرف ہمیں نافرمانی اور گناہ سے متنفر کر دیا تاکہ ہم اس سے ہمیشہ کے لیے کنارہ کش ہو جائیں۔ انہوں اپنی گفتگو کے اختتام پر شرکاء خواتین کو اس معاشرتی بے راہ روی کے دور میں اپنے اور اپنی نسلوں کی ایمان کی بقاء کے لئے تحریک منہاج القرآن میں شمولیت کی دعوت دی۔







تبصرہ