شہداء ماڈل ٹاؤن کی عظیم قربانیوں کو سلام

عظیم شہداء انقلاب کی عظیم ماؤں، بہنوں اور بیٹیو! معزز قائدین منہاج القرآن انٹرنیشنل اور پاکستان عوامی تحریک و ویمن لیگ کی ماؤں بہنوں اور بیٹیو! اور تحریک منہاج القرآن اور PAT کے رفقاء وابستگان اور کارکنان خواتین و حضرات اور میڈیا سے تشریف لائے ہوئے تمام احباب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

اللہ تعالیٰ کا بے پایاں لطف و کرم ہے کہ آج ہم یہاں 17 جون کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کی یاد میں اس سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر یہاں جمع ہوئے ہیں۔ اللہ رب العزت ہم سب کا یہاں آنا اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ 17 جون کا دن ماڈل ٹاؤن لاہور بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک درد ناک اور الم ناک سانحہ ہے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن لاہور کو برپا ہوئے آج تقریباً ایک سال ہوچکا ہے۔ مگر اب تک بے گناہ، مظلوموں، شہداء، زخمیوں اور اسیروں کو انصاف نہیں مل سکا۔ تاریخ گواہ ہے کہ آزمائش کا دورانبیاء کرام اور رسل عظام پر بھی آیا مگر انہوں نے صبرو تحمل اور بردباری کا دامن نہیں چھوڑا۔ بالآخر انہیں ہمیشہ فتح و نصرت نصیب ہوئی۔ اسی طرح سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اور آپ کے کارکنان اتنی بڑی ریاستی دہشت گردی ظلم و بربریت اور قتل و غارت گری پر جس میں دو خواتین سمیت چودہ کارکنان شہید ہوئے 90 زخمی ہوئے، سینکڑوں ہزاروں کارکنان نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ مگر آپ صبر و استقلال کا پیکر بنے رہے لہذا اللہ تعالیٰ بہت جلد ان سب کو اس آزمائش سے گزار کر انصاف، کامیابی اور فتح و نصرت عطا فرمائے گا۔

قائد انقلاب فرماتے ہیں میرے جان نثار کارکنان تاریخ کے ماتھے کا جھومر اور میرا گرانقدر سرمایہ ہیں ہم نے ہمیشہ قرآن مجید اور کتب کے اندر پڑھا ہے کہ پہلی اقوام میں فرعون اور نمرود جیسے ظالم حکمران اپنے اقتدار پر قابض رہنے کے لئے اور اس اقتدار کو اپنی نسلوں کے لئے وراثت بنانے کے لئے ظلم کی بھی انتہاء تک چلے جایا کرتے تھے اور اپنی قوم کے غریب اورمعصوم لوگوں کو خون سے نہلانے اور قتل عام کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ 17 جون 2014ء بھی ایک ایسے ہی درد ناک اور المناک قومی سانحہ کا دن ہے۔ جس نے ہزاروں سال پرانی تاریخ واپس زندہ کرکے رکھ دی ہے۔ جیسے کتابوں کے اندر فرعون اور نمرود کی اقوام کو ظلم کی چکی میں پیس دینے والے واقعات موجود ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں بھی قوم اور میڈیا کی آنکھوں کے سامنے دن دیہاڑے درجنوں چینلز کی آنکھوں کے سامنے موجودہ حکمرانوں کے پالتو غنڈوں اور پولیس کے ذمہ دار لوگوں نے سرزمین پاکستان کی بیٹیوں اور غریب بیٹوں کے سینوں کو اندھا دھند کھلی گولیوں سے چھلنی کردیا اور لوگوں کے سامنے خون کے دریا بہتے رہے مگر کوئی ان کی لاشوں کو ہاتھ لگانے والا نہ تھا۔

17جون کا یہ واقعہ دیکھ کر جس طرح ہزاروں سال پہلے فرعون اور نمرود جیسے ظالم حکمرانوں کے کریکٹرز پر یقین آجاتا ہے کہ حقیقت میں ایسے ظالم حکمران ہوا کرتے تھے۔تو ایک اور بات پر بھی ہمارا ایمان پختہ ہوجاتا ہے کہ کس طرح اس دور میں بھی موجودہ حکومت نے ان ظالم حکمرانوں کی یاد تازہ کردی ہے۔ ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب اللہ رب العزت ان ظالم حکمرانوں کو بھی عبرتناک انجام تک پہنچائے گا۔ اگر قوم کو اس دور میں بھی خون میں نہلایا گیا ہے تو ایسے ظالم اور جابر حکمرانوں کے سورج کو بھی جلد از جلد گہنایا جائے گا۔

ابتداء میں جو میں نے آیت کریمہ تلاوت کی ہے اس میں اللہ رب العزت فرماتا ہے:

يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِط اِنَّ اﷲَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ.

(البقره،2 :353)

اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مجھ سے مدد چاہا کرو، یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

اسی طرح سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ان تمام شہداء کے ورثاء و لواحقین، ماؤں، بہنوں، بیٹیوں ، یتیم بچوں، زخمی اور اسیر کارکنان نے اپنے سینوں پر اتنے بڑے مظالم جھیلے مگر کوئی ان کے ساتھ کھڑا نہ ہوا بلکہ جھوٹی JIT بنائی گئی اور جھوٹے فیصلے منظر عام پر لائے گئے ہیں اور ان معصوم بے گناہوں کے زخموں کو پھر سے تازہ کردیا گیا ہے۔ ہمارے موجودہ حکمرانوں کا وطیرہ یہ ہے کہ قاتل بھی خود ہیں اور منصف بھی خود ان سے بھلا انصاف کی کیا توقع ہوسکتی ہے بلکہ میں تو اسے یوں بیان کرنا چاہوں گی کہ

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا ا نہیں ہوتا

کیا تم ان بے گناہ شہداء، زخمی اور اسیر کارکنان کے خون کا سودا کرو گے۔ تم تو ان کے پسینے کے ایک قطرے کا سودا بھی نہیں کرسکتے ہو۔ میں سلام پیش کرتی ہوں ان عظیم ماؤں کو کہ جن کے بیٹوں اور بیٹیوں نے قربانی دی اور سلام پیش کرتی ہوں ان عظیم بیٹیوں کو کہ جن کے عظیم باپوں اور بھائیوں نے قربانی دی اور میں ماتھا چومتی ہوں ان عظیم صابر اور شاکر بچوں کا جن کی ماؤں نے قربانی دی اور انہوں نے حکمرانوں کے کروڑوں روپے کی آفرز کو اپنے پاؤں کی ٹھوکر پر جانا اور انہوں نے اپنے شہداء کے خون کا سودا نہ کیا۔ ہم اپنے زخمی اور شہداء کارکنوں اور ان کے ورثاء سے آج اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ نہ کبھی بکیں گے نہ کبھی جھکیں گے۔ جب تک ہماری یہ سانسیں باقی ہیں ہم شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیں گے اور حصول انصاف تک یہ جدوجہد جاری رکھیں گے ان شاء اللہ۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

مومن نہیں جو ڈرتا ہے جہد طویل سے
منزل ابھی ہے دور راہِ انقلاب کی

کیونکہ پنجاب حکومت کے تحت قائم دہشت گردی کی عدالتیں آج تک کسی دہشت گرد کے خلاف فیصلہ کرنے کی تو جرات نہیں کرسکیں مگر دہشت گردی کی یہ عدالتیں، پاکستان عوامی تحریک کے معصوم کارکنوں کو پولیس کی طرف سے قائم کردہ جھوٹے مقدمات میں ظالم اور قاتل پولیس کی شہادت اور تفتیش پر سزائیں سنارہی ہیں۔

انصاف کا یہ قتل عام پاکستان کی تاریخ کی بدترین مثال ہے۔ مگر عدل و انصاف کو یقینی بنانے والے ایوان بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ تمہارے خزانوں میں اتنا پیسا تو ضرور ہوگا کہ جس سے تم قانون کی اور پولیس کی بولی لگاسکو مگر تمہارے خزانے میں اتنا پیسا ہرگز نہیں ہے کہ تم کسی مظلوم یا کسی ایمان والے شخص کے ایمان کا سود اکرسکو۔

آج ہم شہداء کی یاد میں جس یادگار کا سنگ بنیاد رکھنے جارہے ہیں یہی ہمیشہ اس راہ انقلاب میں تحریک کے جرات مند قافلوں کے لئے ایک Compass اور قطب نما کی حیثیت بن جائے گا۔ جو کارکن اس نظام کے خلاف لڑے گا اس کے عزم، ہمت و حوصلے کو یہ یادگار پختہ اور پختہ تر کرتی چلی جائے گی۔ میں شہداء کے ورثاء اور لواحقین اور تمام زخمی و اسیر کارکنان کو یہ یقین دلاتی ہوں کہ حضور شیخ الاسلام کا پورا گھرانہ اور پوری تحریک آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور حصول انصاف تک کھڑے رہیں گے اور شہید کارکنان کے ورثاء کے سروں پر قائد انقلاب کا ہاتھ روز اول سے ہے اور ہمیشہ رہے گا کیونکہ یہ سب ان کی اولاد ہیں اور اس ظلم کا حساب ضرور ہوگا اورجلد ہوگا۔ ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ان مظلوموں کو انصا ف نہیں مل جاتا۔ آخر میں، میں اپنی ساری پاکستانی عوام کو صرف اتنا ہی کہوں گی کہ

بے حس پڑے ہو ایسے مر ہی گئے ہو جیسے
 کیا سوچتے ہو یہ کہ کب آئے گی اپنی باری

اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پاکستان کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنائے، دہشت گردی اور ظلم و بربریت اور ناانصافی کا جلد خاتمہ فرمائے اور پوری قوم کو ان موجودہ جابر و قابض حکمرانوں سے جلد از جلد نجات عطا فرمائے۔

تبصرہ