ایمان، یقین، استقامت اور کارکنان تحریک (قسط دوم)

محمد حسین آزاد

اصل واقعہ کچھ یوں ہوا کہ غزوہ احد کے موقع پر آقا علیہ السلام کو پتھروں سے زخمی کیا گیا۔ دائیں جانب کا نچلا دانت مبارک شہید ہوگیا۔ آقا علیہ السلام کا کندھا مبارک زخمی ہوگیا۔ چہرہ انور زخمی ہوگیا۔ خون مبارک بہنے لگا، رخسار انور پر تیر کا زخم آیا۔ الغرض آقا علیہ السلام زمین پر تشریف لائے وہاں ایک گڑھا تھا۔ اس کی گہرائی میں جسم مبارک نیچے چلا گیا تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوڑے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آقا علیہ السلام کا دست مبارک پکڑا اور نیچے سے اوپر کھینچا اور حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سہارا دے کر کھڑا کیا۔ جب یہ صورت حال پیدا ہوئی تو اس وقت جو بدبخت تھا عتبہ بن ابی وقاص اور اس کے دیگر ساتھی جنہوں نے آقا علیہ السلام پر حملہ کیا تھا تو ان بدبختوں نے اعلان کردیا کہ آقا شہید ہوگئے اور جب آقا علیہ السلام اٹھے اور آپ نے لوگوں کوجمع کیا۔ پیاس کی شدت کی وجہ سے عجب حال تھا۔ اس وقت جب آپ نے بلایا تو منظر ہی بدل گیا۔ یہاں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت جو اصح روایت ہے کے مطابق آقا علیہ السلام اٹھے اور اپنے دست مبارک سے خون صاف کرتے ہوئے فرماتے:

’’ایسی قوم کیسے نجات پائے گی جو اپنے نبی کے چہرے کو زخمی کردے گی‘‘۔

یہ نبی اکرم صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا مقام صبر ہے اور صبر، یقین کے بغیر نہیں آتا۔ لہذا یہ یقین آپ اعتکاف میں اتنا پختہ کرکے جائو کہ فولاد بھی ٹکرائے تو ریزہ ریزہ ہوجائے یہ کلمہ مبارک زبان پر آیا تو اللہ پاک نے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کو بھیجا کہ کہیں میرا محبوب اپنی زبان سے سخت کلمہ نہ کہہ دے لہذا جاکر میرا پیغام دے دیں۔

لَيْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِشَيْئٌ اَوْ يَتُوْبَ عَلَيْهِمْ اَوْيُعَذِّ بَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَo

’’(اے حبیب! اب) آپ کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں چاہے تو اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے کیوں کہ وہ ظالم ہیں‘‘۔

(آل عمران:128)

یعنی محبوب جو آپ کا کام تھا آپ اس میں سرخرو اور کامیاب ہوگئے۔ آگے انکے ساتھ کیا ہوگا، کب ہوگا کیسے ہوگا؟ یہ کام آپ کا نہیں یہ مجھ پر چھوڑ دیں۔ یہ ہے ایمان۔ اس سے آگے صاحب ایمان کی ہمت نہیں کہ قدم اٹھا سکے۔

یہی وہ مقام ہے جس میں انسان میں صبر ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب، نبی اور رسول صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا نہ صرف مربی ہوتا ہے بلکہ کفیل بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زبان اطہر پر بھی ایسی بات نہیں آنے دی تاکہ کل کو کوئی اور طرح اشارہ نہ کرسکے۔ صرف اتنا کلمہ فرمایا تھا وہ قوم جس نبی کا ان کو بھلائی، جنت اور بخشش کی طرف بلارہا ہے وہ قوم کیسے نجات پائے گی؟ وہیں محبوب کو روک دیا اور فرمایا: میرے محبوب اس سے آگے نہیں کچھ کہنا۔ آپ کو مبارک ہو آپ سرخرو ہوگئے ہیں۔ اب یہاں سے آگے اللہ کا کام ہے۔ بخاری شریف کے الفاظ میں آقا علیہ السلام نے فرمایا:

’’وہ قوم جس نے اپنے نبی کو خون آلود کردیا وہ کیسے نجات پائے گی‘‘۔

پھر آقا علیہ السلام جنگ میں دو خود (Helmet) باندھے ہوئے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آقا علیہ السلام نے صرف اللہ اللہ اور تسبیح کرنے اور استغفار پڑھنے کا ہی سبق نہیں سیکھایا بلکہ مجاہدانہ کردار بھی ادا فرمایا۔ آپ صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے زندگی کے مختلف گوشے کر رکھتے تھے۔ ایک اصحاب صفہ کا گوشہ تھا جو مسلسل روزے رکھتے، افطار کے لئے کوئی کھجور دیتا تو کھجور سے افطار کرلیتے۔ بعض اوقات 8,8 صحابہ کو ایک کھجور ملتی اور وہ ایک کھجور پر اکتفاء کرکے پانی پی لیتے۔

یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہون

اصحاب صفہ کو اتنی کمزوری آجاتی کہ حالت نماز میں جب آقا علیہ السلام قرات کررہے ہوتے تو قیام کے دوران بعض اوقات چکرا کر گر پڑتے تھے۔ مدینہ میں مکہ والے کافرو مشرک تو رہتے نہیں تھے۔ مدینہ میں منافق رہتے تھے اور یہود رہتے تھے۔ وہ جب صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دیکھتے کہ گرے پڑے ہیں اور غشی آگئی ہے۔ کئی دن کے بھوکے ہیں اور نماز میں قیام نہیں کرسکتے تو وہ کہتے: ’’ھولاء مجانین‘‘ یہ پاگل ہیں۔ مسجد میں حلقہ ذکرو تربیت بھی ہوتا اور حلقہ علم بھی ہوتا۔ ہر کام اپنے وقت پر ہوتا۔ ایک ہی مسجد میں دو حلقے ہورہے ہیں۔ ادھر حلقہ ذکر ہورہا ہے ادھر حلقہ علم ہورہا ہے۔

آقا علیہ السلام تشریف لائے دونوں جانب دیکھا الگ الگ حلقے ہیں۔ دیکھ کر ادھر بھی شفقت کی نگاہ کردی اور ادھر بھی۔ اس طرح دونوں کو خوش کردیا لیکن آکر حلقہ علم میں بیٹھ گئے۔ (کیونکہ علم کے حصول سے فکر درست ہوگا۔ علم کے حصول سے جب یقین آئے گا تو تصور درست ہوگا پھر ذکر کرنے کے قابل بھی ہوں گے) پھر صرف یہ زندگی نہیں تھی بلکہ جب انقلاب کا اور حق و باطل کے معرکے اور دفاع کا وقت آتا تو پھر خندقیں بھی کھودتے۔ پھر غزوات ہوتے۔ جیسے غزوہ احد کے احوال میں آپ کو سنارہا تھا۔ جس کا ذکر قرآن مجید کررہا ہے:

’’جب تم میں کچھ عوام گھبرا کر بھاگ گئے تھے‘‘۔

اب یہاں وہ بات نہیں ہورہی کہ جب قافلہ چلا تھا تو ہزار تھے جو دیکھا دیکھی چل پڑے تھے اور منافق تھے۔ وہ تین سو عبداللہ بن ابی جو منافقوں کا سردار تھا کے ساتھ راستے سے ہی پلٹ گئے۔ اب احد کے میدان میں 700 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پہنچے تھے ان کی بات ہورہی ہے کہ جو بھاگے اور منتشر ہوئے انہی 700 میں سے ان میں عوام بھی تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی تھے مگر وہ بھی صحابہ کرام تھے جو ثبات کا پیکر بن کر لڑنے والے تھے۔ یعنی کئی کچے تھے کئی پکے تھے۔ بیر بھی ایسے ہوتے ہیں آم بھی ایسے ہوتے ہیں، کیلے بھی ایسے ہوتے ہیں ہر کوئی شروع میں کچا ہوتا ہے بعد میں پکا ہوجاتا ہے۔

ہر کوئی ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور شیر خد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہیں ہوتا۔ کئی جب پہلے دن عشق کی آگ لگتی ہے اور مصطفی صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو تکتے ہیں تو اسی دن بک جاتے ہیں پھر ان کے قدموں میں کوئی زلزلہ نہیں لاسکتا اور کئی ایسے ہوتے ہیں دیکھا دیکھی کلمہ پڑھتے ہیں پھر آکر دیکھتے ہیں اور حالات کا جائزہ لیتے ہیں آتے جاتے رہتے ہیں۔ کئی مہینے اور کئی سال بھر گزار دیتے ہیں۔ اس لئے قرآن مجید نے انہیں جگہ جگہ الاعراب کہا۔ مراد ہے جو مدینہ کے اردگرد دیہاتی لوگ رہتے ہیں۔ منافقین کے لئے الگ لفظ استعمال کیا جو یہود میں منافق لوگ تھے اور دھوکا باز تھے۔ غدار تھے، سازشی تھے ان کے لئے منافقین کہا اور جو صحابہ تھے ان کے لئے مومنین کہا جو کچے پکے تھے ان کے لئے اعراب کہا۔ یہ کچے لوگ جو بھاگ کھڑے ہوئے تھے بعد ازاں ان کو بھی معاف کردیا گیا۔ قرآن پاک میں ارشاد فرمایا گیا:

يٰـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِيْنَ کَفَرُوْا وَقَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ کَانُوْا غُزًّی لَّوْ کَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَمَا قُتِلُوْاج لِيَجْعَلَ اﷲُ ذٰلِکَ حَسْرَةً فِيْ قُلُوْ بِهِمْ ط وَاﷲُ يُحْی وَيُمِيْتُ ط وَاﷲُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌo

’’اے ایمان والو! تم ان کافروں کی طرح نہ ہو جائو جو اپنے ان بھائیوں کے بارے میں یہ کہتے ہیں جو (کہیں) سفر پر گئے ہوں یا جہاد کر رہے ہوں (اور وہاں مر جائیں) کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ قتل کیے جاتے، تاکہ اللہ اس (گمان) کو ان کے دلوں میں حسرت بنائے رکھے، اور اللہ ہی زندہ رکھتا اور مارتا ہے، اور اللہ تمہارے اعمال خوب دیکھ رہا ہے‘‘۔

(آل عمران: 156)

اب یہاں ایمان والوں سے خطاب ہے۔ جن کو کہا جارہا ہے تم ان کافروں کی طرح نہ ہوجائو۔ اب یہ بات سمجھنے والی ہے کہ وہ کافروں کی طرح عقیدہ نہیں بدل رہے تھے۔ اسلام کو چھوڑ تو نہیں رہے تھے۔ وہ نماز، روزہ، زکوٰۃ، قرآن اور حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا انکار تو نہیں کررہے تھے۔ پھر کیوں فرمایا ان کافروں کی طرح نہ ہوجائو؟ کون سے کافر؟ باری تعالیٰ نے فرمایا: جو اپنے ان بھائیوں یا رشتہ داروں یا دوستوں کو کہتے ہیں ان لوگوں کے بارے میں جو آقا علیہ السلام کے ساتھ سفر اور جہاد پر نکلے اور وہیں شہید ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ اگر وہ لوگ رسول اللہ صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہ جاتے اور جہاد نہ کرتے تو نہ مرتے۔

حالانکہ زندہ بھی اللہ رکھتا ہے اور موت بھی اللہ دیتا ہے۔ اس پر پختہ ایمان ہونا چاہئے۔ موت تو ہر حال میں آکر رہتی ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ جب بھی موت آئے تو بزدلی کی موت نہ آئے بلکہ جواں مردی کی موت آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جنہوں نے مصطفی صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر طعن کیا اس کا جواب دیتے ہوئے آگے ارشاد فرمایا:

وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِيْ سَبِيْلِ اﷲِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةُ مِّنَ اﷲِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَo وَلَئِنْ مُّتُّمْ اَوْقُتِلْتُمْ لَاِ الَی اﷲِ تُحْشَرُوْنَo فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اﷲِ لِنْتَ لَهُمْ ج وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ ص فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْلَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِج فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اﷲِط اِنَّ اﷲَ يُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِيْنَo اِنْ يَّنْصُرْ کُمُ اﷲُ فَـلَا غَالِبَ لَکُمْ ج وَاِنْ يَّخْذُ لْکُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِيْ يَنْصُرُکُمْ مِّنْم بَعْدِهِ ط وَعَلَی اﷲِ فَلْيَتَوَ کَّلِ الْمُوْمِنُوْنَo

’’اور اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کر دیے جائو یا تمہیں موت آ جائے تو اللہ کی مغفرت اور رحمت اس (مال و متاع) سے بہت بہتر ہے جو تم جمع کرتے ہو۔ اور اگر تم مر جائو یا مارے جائو تو تم (سب) اللہ ہی کے حضور جمع کیے جائو گے۔ (اے حبیبِ والا صفات!) پس اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ آپ ان کے لیے نرم طبع ہیں اور اگر آپ تُندخُو (اور) سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے چھٹ کر بھاگ جاتے، سو آپ ان سے درگزر فرمایا کریں اور ان کے لیے بخشش مانگا کریں اور (اہم) کاموں میں ان سے مشورہ کیا کریں، پھر جب آپ پختہ ارادہ کر لیں تو اللہ پر بھروسہ کیا کریں، بے شک اللہ توکّل والوں سے محبت کرتا ہے۔ اگر اللہ تمہاری مدد فرمائے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں بے سہارا چھوڑ دے تو پھر کون ایسا ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کر سکے؟ اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے‘‘۔

(آل عمران: 157 تا 160)

اللہ رب العزت نے ان آیات میں واضح فرمادیا کہ وہ کام کرو جو تمہاری ڈیوٹی ہے جبکہ اس کا انجام کار کیا ہوگا؟ کیسا ہوگا؟ یہ میرا کام ہے۔ لہذا میرا کام اپنے ہاتھ میں نہ لو۔ فرمایا: اگر اللہ تمہاری مدد فرمانے پر آجائے اور تم کسی بھی معرکہ میں ٹکرائو تو کوئی اور غالب کیسے آسکتا ہے؟ اور اگر اللہ پاک تمہیں اپنے حال پر چھوڑ دے اور تمہارے مخالف اور دشمن لوگ غالب آجائیں تو کوئی ہے جو تمہاری مدد کرسکے۔ اسی چیز کو عارف کھڑی شریف حضرت میاں محمد بھی اپنے انداز سے یوں کہتے ہیں:

مالی دا کم پانی دینا بھر بھر مشکاں پاوے
مالک دا کم پھل پُھل لانا لاوے یا نہ لاوے

لہذا فرمایا مالی بنو خدا نہ بنو اور مالی شکوہ نہیں کرتا۔ اگر اللہ فیصلہ کرے کہ اسی معرکہ میں تمہیں غالب کرتا ہے تو کوئی بھی تمہارے سامنے نہ جم سکتا ہے اور نہ ٹھہر سکتا ہے۔ بس مومنوں کا کام اللہ پر توکل رکھنا ہے کیونکہ اللہ پر جس کا توکل قائم ہوجائے اس کو ایک اہم فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بے صبر نہیں ہوتا کیونکہ توکل، یقین سے جنم لیتا ہے اور یقین شک کی جڑوں کو کاٹ کر آتا ہے۔ جب یقین آتا ہے تو شک نہیں رہتا اور دور دور تک نہیں رہتا۔ شک بے صبری پیدا کرتا ہے۔ بے صبری بندے کا حوصلہ کمزور کرتی ہے اور بندے کو ختم کردیتی ہے۔ شک وسوسہ لاتا ہے اور بے صبر ہونے سے بندہ حوصلہ اور ہمت ہار جاتا ہے۔ دوسری طرف یقین ہے جو شر کی جڑ کاٹتا ہے اور ایمان اور یقین کا درخت قائم کرتا ہے جب یقین آتا ہے تو یقین کے درخت پر توکل کے پھل لگتے ہیں پھر وہ اللہ پر توکل کرتا ہے اس لئے مومنوں کا کام ہے کہ وہ توکل کبھی نہ چھوڑیں کیونکہ جب توکل ہوتا ہے تو فتح نظر آتی رہتی ہے۔ لہذا اللہ کا وعدہ پورا ہوکر رہے گا۔ ہمیں کب؟ کیوں؟ اور کیسے؟ میں نہیں پڑنا ہے۔ بس ہمارا کام توکل کرنا ہے۔ پھر آل عمران کی آیت نمبر165 میں فرمایا:

اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِيْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَيْهَالا قُلْتُمْ اَنّٰی هٰذَاط قُلْ هُوَمِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ ط اِنَ اﷲَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيْرٌo

’’کیا جب تمہیں ایک مصیبت آ پہنچی حالاں کہ تم اس سے دو چند (دشمن کو) پہنچا چکے تھے، تو تم کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آ پڑی؟ فرما دیں: یہ تمہاری اپنی ہی طرف سے ہے، بے شک اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھتا ہے‘‘۔

(آل عمران:165)

یعنی فرمایا: کیوں پریشان ہوتے ہو۔ تم اس سے دوگنا مصیبت دشمن کو غزوہ بدر میں نہیں پہنچاچکے۔ حالانکہ وہاں تو فرشتے بھی اترتے تھے۔ اللہ کے حضور عرض کیا: باری تعالیٰ یہ میری کل پونجی ہے۔ کائنات میں اگر یہ ہارگئے تو تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اب یہ لاڈ کی بات کوئی اور کرسکتا ہے۔ کس کی جرات اللہ سے کہے کہ اگر میرے بندے اس معرکے میں ہارگئے تو تیری عبادت نہیں ہوگی۔ مگر آقا علیہ السلام نے عرض کیا اور احد میں بھی جب حالات بدل گئے تو یہاں بھی فرمایا اور غزوہ حنین میں بھی فرمایا۔ جہاں بارہ ہزار کا لشکر تھا جبکہ احد میں صرف 700 تھے۔ حنین میں دس ہزار صحابہ تھے۔ 2 ہزار عوام تھے اور فتح مکہ کے بعد حنین کی جنگ ہوئی۔ صرف 15 دن آقا علیہ السلام مکہ معظمہ میں آرام کرسکے۔ پندرہ دنوں میں تو منصوبہ بندی بھی نہیں ہوتی۔ نیا ملک فتح کیا ہے۔ ابھی پندرہ دن گزرے تھے کہ حنین کی وادی میں ساری فوجیں جمع ہونا شروع ہوگئیں۔ خبر ملی تو لشکر لے کر چل پڑے۔ دس ہزار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے جو فتح مکہ میں آئے تھے اور فتح مکہ میں بھی آنے والے سارے اس درجے کے صحابہ نہیں تھے۔ ان میں خواص صحابہ بھی تھے۔ عوام صحابہ بھی تھے کیونکہ جس نے دیکھ کر کلمہ پڑھ لیا وہ صحابی تو بن گئے۔ اب صحابی کے Title سے پیچھے ہٹ نہیں سکتے کیونکہ جس نے دل سے کلمہ پڑھ لیا تو Title تو صحابی کا لگ گیا۔ اب اس میں سو درجے ہیں آہستہ آہستہ سنبھلنے والے بھی ہوئے اور پہلے دن سے پکے ہوئے بھی ہوئے۔ وہ دس ہزار سارے پختہ اولوالعزم صحابہ نہیں تھے۔ جب فتح مکہ کے لئے آرہے تھے تو عوام بھی ساتھ چل پڑے تھے اور جب مکہ سے چلے تو 10ہزار تو وہ تھے اور حنین کے لئے 2 ہزار مال غنیمت کے لئے مکہ کی عوام بھی چل پڑے۔ جب عوام ساتھ چل پڑتے ہیں دیکھا دیکھی، جوش میں جذبے میں اور ابھی پکے نہیں ہوتے پھر جب ایسی صورت آتی ہے تو پھر وہ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

جیسے ہمارے ہاں بھی اللہ کی شان دیکھیں جنہوں نے پریشان ہونا تھا۔ وہ 31 اگست کی رات ہوگئے تھے مگر جو جم گئے وہ آخری دم تک ہٹے نہیں اور ڈٹے رہے۔ اللہ نے ان کو ایمان کی طاقت دی مگر جو ڈرگئے ان سے ناراض نہیں ہونا۔ کیونکہ انسان ہیں آج نہیں تو کل وہ بھی جم جائیں گے۔ زیادہ دودھ میں جاگ تھوڑی لگے تو دودھ نہیں جمتا اور دہی نہیں بنتی۔ لہذا کوئی بات نہیں آپ کو زیادہ لگ گئی آپ جم گئے۔ ابھی انہیں تھوڑی لگی تھی جب زیادہ لگ جائے گی وہ بھی جم جائیں گے۔ لہذا اٹھا کر پھینکتے نہیں ہیں جب دودھ نہیں جمتا تھا تب بھی رڑک کر پی لیتے تھے۔ یہ پھینکنے کی چیز نہیں ہوتی۔ یہ آقا علیہ السلام کی سنت ہے۔ لوگوں کو اس وقت بھی سمجھ نہیں آتی تھی لیکن آقا علیہ السلام کسی کو بھی دھتکارتے نہیں تھے۔

حوالہ: ماخوذ از ماہنامہ دختران اسلام، اکتوبر 2015


Your Comments

منہاج القرآن
منہاج ویلفئیر
منہاج اوورسیز
پاکستان عوامی تحریک
اسلامک لائبریری
عرفان القرآان
خطابات
ماہنامہ منہاج القرآن
ماہنامہ دختران اسلام
کاپی رائٹ © 1994 - 2019 منہاج القرآن انٹرنیشنل. جملہ حقوق محفوظ ہیں.