مجالسِ علم کی فضیلت و اَہمیت

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

قسط اول

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کم و بیش چار پانچ سال قبل جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن (کالج آف شریعہ) لاہور کے طلباء اور پھر ملک بھر کی دیگر دینی جامعات، دارالعلوم، مدارس اور علمی اداروں کے طلباء، بعدازاں جملہ اہل علم جس میں علماء، اساتذہ ، معلمین، متعلمین اور مستفیدین سب کی علمی رہنمائی کو ذہن میں رکھ کر ارادہ کیا کہ چار پانچ بنیادی ضروری علوم پر عربی میں کچھ کتابیں تحریر کی جائیں۔ان درسی کتب کو متن کے طور پر پڑھایا جائے۔ انہوں نے چار پانچ سال قبل اس کی تیاری شروع فرمائی۔ بعد ازاں ملکی و بین الاقوامی مصروفیات کے باعث تا حال ان کی تکمیل ممکن نہ ہو سکی۔ان کتب کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے پہلی کتاب اصول العقیدہ پر عربی میں مرتب فرمائی، یہ کافی ضخیم تصنیف ہے اور تکمیل کے مراحل میں ہے۔ دوسری کتاب اصول العقیدہ پر ابھی زیرِتکمیل ہے۔ تیسری کتاب اصول العلم پر ہے جس کے متعدد ابواب مکمل ہو چکے ہیں جبکہ چوتھی کتاب اصول الحدیث پرہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اپنی کتاب’’ معارج السنن‘‘ جس کی کئی جلدیں چھپ چکیں اور کئی مجلدات اُس کی اشاعت پذیر ہیں، اُس کے مقدمہ کے طور پریہ کتاب تحریر کر رہے ہیں۔ یہ کتاب بھی عربی زبان میں ہے۔ اصول الحدیث، علم المصطلحات الحدیث، تاریخ و تدوین حدیث، علم الجرح و التعدیل، علم العلل، اسماء الرجال پر الغرض اصول الحدیث اور علم المصطلحات کے تمام ضروری پہلوؤں پر یہ چار جلدوں میں ایک ضخیم کتاب ہو گی۔پانچویں کتاب اصول ادب، تصوف، سلوک، تربیت، آداب کے لحاظ سے ادب و معرفت پرہے۔ بعدازاں ان سب تصانیف کا اردود ترجمہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ارادہ فرمایا کہ ان کتب کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ان کے موضوعات پر سلسلہ وار دروس کے سلسلہ کا آغاز کردیا جائے۔

ان مجالس علم کے آغاز کا دوسرا سبب جامعہ کے طلباء ، اساتذہ ،علماء اور جمیع طالبانِ علم کے لیے ہفتہ وار ایک درس کا آغاز ہو، جس کا اسلوب خطابیہ کی بجائے تدریسی ہو۔ اس پر مغز خطاب سے کثیر حلقات مستفید ہو سکیں۔

اس ضمن میں برطانیہ اور یورپ میں بہت عرصہ قبل آٹھ دس سال تک کم و بیش الہدایۃ کے عنوان سے تین تین روزہ کیمپ منعقد ہوتے تھے۔ برمنگھم میں دورہِ صحیح بخاری و مسلم اور پھر ایک بار دورئہ صحیحین کے عنوان سے منعقد ہوا۔ بھارت کے دورے میں حیدرآباد دکن میں بھی اصول الحدیث اور حدیث کے موضوع پر دو تین روز کے دروس ہوئے تھے۔ برطانیہ ،یورپ کے دیگر ممالک اور دنیا بھر میں جاری اجتماعات ورکشاپ اور پروگراموں کا سلسلہ مصروفیات کی بنا پر منقطع ہو چکا تھا۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ان تمام خِطوں کے افراد اور ان کی علمی ضروریات کے پیش نظرہفتہ وار دروس شروع کرنے کا فیصلہ فرمایا۔

مجالس العلم کا پیش منظر

مجالس العلم کے ابتدائی تعارفی موضوعات کے بعدان شاء اللہ الفقہ الحنفی کے موضوع کا آغاز ادلۃ ا لشرعیۃ کے ساتھ کیا جائے گا۔ بعد ازاں اصول الحدیث، اصول العقیدہ اور اصول الادب ترتیب کے ساتھ ان موضوعات کو تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔

مجالس العلم کا مجوزہ طریقہ تدریس

ان مجالس علم میں جہاں کوئی چیز کتابی آئے گی، جس کا حوالہ دینا ضروری ہو گا ،دیا جا ئے گا۔ہر چھوٹی بات کا بھی حوالہ دیا جائے گا،تاکہ قارئین اس کتاب کی طرف رجوع کر سکیں۔ اس کاوش سے علم کا کلچر زندہ ہو گا ۔ اس طرح آپ کا علمی شغف اور ذوق بڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ کی کتابوں ،ان کے مصنفین، ائمہ اوراکابرین سے بھی شناسائی ہو گی۔

مجالس العلم میں موضوعات کا انتخاب

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ان مجالس کے موضوعات کے تعین میں وسیع تر مشاورت بھی فرمائی۔ موضوعات کے انتخاب میں اہم ترین مسائل درج ذیل تھے:

ان مجالسِ علم میں کیا پڑھا یا جائے؟ یعنی صحیح بخاری اور مسلم پڑھائی جائیں یا صحاح ستہ پر دروس ہوں، یا اصول الحدیث کی کوئی کتاب کا سلسلہ وار درس ہو۔

اگر مختلف فنون پر سلسلہ وار لیکچر دیا جائے تو اس میں دشواری پیش آتی ہے کہ اُس سے کسبِ فیض حاصل کرنے والوںکی تعداد چند سو ہوگی۔ دنیا بھر میں موجود لاکھوں لوگ جو مستقل طور پر مجلس علم میں بیٹھ کر سنیں گے یا شائع شدہ کتب کا مطالعہ کریں گے ان کے استفادہ کی چیز نہیں ہو گی۔ اس طرح وہ حقیقی مقصد سے محروم رہ جائیں گے۔

یہ بھی ممکن نہیں کہ خاص سطح کے طلباء کے لیے الگ متعلمین اور علماء کے لیے الگ نصاب متعین کیا جائے اور ان کے لئے الگ مجالس کا انعقاد کیا جائے۔

رفقاء اورابتدائی کلاسز کے طلباء کے لئے الگ سے مجالس کا اہتمام کیا جائے۔

منتہی اور مبتدی طلباء کے لیے الگ الگ نصاب طے کیا جائے۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے ہمیں متقدمین کے طریقے کی پیروی کرنا پڑتی ہے کہ جن کی مجالس علم میں پچاس پچاس ہزار طلباء شریک ہوتے تھے۔

متقدمین محدثین کا طریقہ درس و تدریس

امام احمد بن حنبل، امام بخاری، ائمہ اربعہ اور دیگر اکابر ہستیوں کے احوال میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان دروس میں موجود ہر شخص کی علمی و فنی سطح ایک جیسی نہیں ہوتی تھی۔ اس طرح پھر درس کی سطح، علوم و فنون و کتب کوایسا رکھنا پڑتا تھا کہ جس سے خواص بھی استفادہ کر سکیں اور عوام بھی مستفید ہو سکیں۔ ہر کوئی اپنی اپنی ضرورت کے مطابق سامان لے تاکہ اس کا جو نفع اور فائدہ ہے اس میں وسعت ہو۔ اس طرح ان مجالسِ علم سے استفادہ کرنے والوںمیں محدود طبقے کی بجائے کثیر تعداد شامل ہو۔

یہ چند بنیادی چیزیں تھیں جن کو سامنے رکھ کر ہم مجالس العلم کے اس منہج تک پہنچے۔ الحمد للہ تعالیٰ اللہ رب العزت کا بارِدیگر شکریہ ادا کر کے ہم اس مجلس کا آغاز کر رہے ہیں۔

مجالس کے لئے نام’’ مجالس العلم‘‘ کا انتخاب

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے ان مجالس کا نام کا تعین کرتے ہوئے (مجالس علم ) کے لفظ کا انتخاب قرانِ مجید کی آیت کریمہ کی روشنی میں کیا۔اس آیتِ مبارکہ کے آغاز میں ارشاد فرمایا کہ مجالس میں وسعت پیدا کرو اور دوسرے حصے میں فرمایا: اللہ پاک تم میں سے اہل ایمان اور اہل علم کے درجات بلند کرے گا۔ علم کو جب مجالس سے جوڑا تو عنوان مجالس العلم بن گیا۔اس طرح ان محافل کا نام قرآن سے ماخذہے۔

مجالس العلم کی اہمیت و ثمرات قرآن مجید کی روشنی میں

اللہ رب العزت نے قرآن مجید کی سورۃ مجادلۃ آیت نمبر 11 میں مجالس العلم کی اہمیت و ثمرات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

ٰياَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِذَا قِيْلَ لَکُمْ تَفَسَّحُوْا فِيْ الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا يَفْسَحِ اﷲُ لَکُمْ ج وَاِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا يَرْفَعِ اﷲُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ لا وَالَّذِيْنَ اُوْتُو الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ط وَاﷲُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌo

(المجادلة، 58: 11)

اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ (اپنی) مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو کشادہ ہوجایا کرو اللہ تمہیں کشادگی عطا فرمائے گا اور جب کہا جائے کھڑے ہوجاؤ تو تم کھڑے ہوجایاکرو، اللہ اُن لوگوں کے درجات بلند فرما دے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم سے نوازا گیا، اور اللہ اُن کاموں سے جو تم کرتے ہو خوب آگاہ ہے۔

انسان کی جدوجہددینی و دنیاوی ترقی اور درجات کی بلندی کے لئے ہوتی ہے۔ہر شخص خواہش مند ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت اسے دین اور دنیا میں بلندی اور رفعت عطافرمائے۔ مذکورہ آیت مبارکہ میںاللہ تعالی نے درجات کی بلندی کا ذریعہ مجالس کو قرار دیا ہے۔

اس آیت کریمہ کے پہلے حصے میں المجالس کا ذکر آیا ہے جبکہ آخری حصے میں العلم کا ذکر آیا ہے۔اللہ رب العزت نے مومنوں کو مجالس کے آداب کو سمجھانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ اگر تم انہیں پورا کرو گے تو اللہ تم میں سے ایمان اور علم والوں کے درجات بلند فرما ئے گا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اللہ پاک نے درجات کی بلندی کو مجالس کے ساتھ متعلق کیا ہے:

يَرْفَعِ اﷲُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُم ْلا وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ.

(المجادلة: 58: 10)

’’اللہ اُن لوگوں کے درجات بلند فرما دے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم سے نوازا گیا‘‘۔

اس آیت کریمہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ مجلس میں بیٹھنے سے درجات کی بلندی تب ہی ہو گی جب بیٹھنے والے کو کوئی روحانی و اخروی نفع اور فائدہ ہو گا اور اس کی خیر میں اضافہ ہو گا۔ روحانی، اخروی یا دینی کسی بھی اعتبار سے خیر میں اضافہ درجات کی بلندی کا باعث بنتا ہے۔ خیر میں اضافہ تب ہی ہو تا ہے جب بیٹھنے والے کو مجلس سے دو چیزیں حاصل ہوں۔ ان میں پہلے نمبر پرایمان اوردوسرا علم ہے۔

مجالس سے نورِ ایمان اور علم میں اضافہ

یہ واضح ہو گیا کہ درجات کی بلندی تب ہی ہو گی جب بیٹھنے والے کو کوئی خیر میسر آئے گی۔خیر کا اضافہ تب ہی ہو تا ہے جب اسے مجلس سے ایمان اور علم حاصل ہو۔

اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کون سی مجالس ہیں جو بیٹھنے والوں کے ایمان اور علم میںاضافے کا باعث بنتی ہیں۔ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی مجالس اور ہم نشینوں کی صفات بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قِيْلَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، اَيُّ جُلَسَائِنَا خَيْرٌ؟ قَالَ: مَنْ ذَکَّرَکُمُ اﷲَ رُؤْيَتُهُ، وَزَادَ فِي عِلْمِکُمْ مَنْطِقَُهُ وَذَکَّرَکُمْ بِالآخِرَةِ عَمَلُهُ.

رَوَهُ اَبُوْ يَعْلَی وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ.

(أبو يعلی، المسند، 4: 326، رقم: 2437)، (عبد بن حميد، المسند، 1: 213، رقم: 631)، (بيهقی، شعب الإيمان، 7: 57، رقم: 9446)، (حکيم ترمذی، نوادر الأصول، 2: 39)، (منذری، الترغيب والترهيب، 1: 63، رقم: 163)، (هيثمی، مجمع الزوائد، 10: 262)

’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے بہترین ہم نشین کون ہیں؟ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا دیکھنا تمہیں اللہ کی یاد دلادے، جس کا بولنا تمہارے علم میںاضافہ کرے اور جس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے۔ ‘‘

نیک اور صالح ہم مجلس کے ساتھ بیٹھنا بھی خیر میں اضافہ کر دیتا ہے۔ اس سے ایمان کے نور میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر الجلیس الصالح ہے یعنی آپ کا ہم مجلس نیک ہے، ولی اللہ ہے، عبادت گزار، متقی اور اللہ سے محبت کرنے والا ہے۔ اس کا علم اور عقیدہ صحیح ہے، اس کی نیت میں اخلاص ہے تو اس کے ساتھ مل بیٹھنے سے بھی آپ کو خیر ملتی ہے، گناہوں کی بخشش اور درجات بلند ہوتے ہیں۔

حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صالح جلیس کی صحبت کے تین ثمرات ذکر فرمائے ہیں:

مَنْ ذَکَّرَکُمُ اﷲَ رُؤْيَتُهُ، وَزَادَ فِي عِلْمِکُمْ مَنْطِقَُهُ وَذَکَّرَکُمْ بِالآخِرَةِ عَمَلُهُ

’’ جس کا دیکھنا تمہیں اللہ کی یاد دلادے، جس کا بولنا تمہارے علم میںاضافہ کرے اور جس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلائے‘‘۔

صالح ہم نشین کی صحبت کا پہلا فائدہ اس کی محض زیارت اللہ کی یاد دلاتی ہے، دوسرا فائدہ اس کی گفتگو علم کے اضافے کا باعث بنتی ہے اور تیسرا فائدہ اس کا عمل آخرت کی یاد دلاتا ہے۔ صالح صحبت کا پہلا فیض یہ ہے کہ بیٹھنے والے کو محض صحبت سے اس کا دیدار کرنے سے خیر اور برکت حاصل ہوتی ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے کہ اللہ کے کسی صالح بندے کے ساتھ مل بیٹھنے سے بھی ایمان میں جلا آتی ہے۔

محض زیارت کرنا باعث خیر و برکت کیسے؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی شخص کو محض دیکھنا یہ کیسے عملِ خیر بن گیا؟ ظاہراً کیا توکچھ بھی نہیں۔ کچھ محنت بھی نہیں کی، نفل نہیں پڑھے، تسبیح نہیں کی، تلاوت نہیں کی، الغرض کوئی اور خیر کا عمل بھی نہیں کیا، محض صالح شخص کو دیکھا اور اس کی زیارت کی ۔شریکِ مجلس کا محض یہ دیکھنا خیر کا عمل کیسے بن گیا؟

کسی صالح جلیس(نیک بندے ) کے دیدار سے خیر اور برکت میسر آنا ، ایسے ہی ہے جیسے قرآن مجید کو فقط دیکھنے سے بھی نیکیاں حاصل ہوتی ہیں اورکعبۃ اللہ کی فقط زیارت سے ثواب ملتا ہے۔ اولاد کووالدین کی زیارت پر بھی حج کا ثواب عطاکیا جاتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعدد احادیث مبارکہ میں مختلف ہستیوں اور اشیاء کی زیارت پر خیر وبرکت کے حصول کی خوشخبری عطافرمائی ہے۔

حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کی روشنی میں جیسے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم، کعبۃ اللہ اور والدین کو دیکھنا خیر و برکت کا باعث ہے۔ اسی طرح صالح افراد کو دیکھنا، نیک متقی بندے کے ساتھ بیٹھنا، ان کو سننا، دیکھنا اور ان کی ہم نشینی اختیار کرنا بذاتِ خود ( itself) عمل ِخیر ہے۔

اشیاء کو دیکھنے سے انسانی جسم اور روح پر اثرات

صالح لوگوں کی محض زیارت انسانی جسم اور روح پر کیسے اثرات مرتب کرتی ہے ؟اس بات کو سمجھنے کے لئے ہم مادی زندگی سے مثال لیتے ہیں۔ اگر کوئی شخص جسمانی طور پرتھکا ہارا اور طبیعت میں تلخی (depress)محسوس کرے تو ڈاکٹر کہتے ہیں کہ جہاں سبزہ اور صاف ستھری فضا ہو وہاں جا کر سیر کریں۔ اس خوشگوار فضا میں سانس لینے سے آپ کی طبیعت کوتازگی (freshness )ملتی ہے۔ طبیعت پر اچھا اثر پڑتا ہے اعصابی تنائو کم ہوتا ہے۔ پانی، سمندراور جھیل کو دیکھنے سے طبیعت میں ایک فرحت محسوس ہوتی ہے۔ اب یہ ایک ایسی چیز ہے ہر شخص اس کا عملی تجربہ رکھتا ہے۔اسی طرح ماں باپ کواپنی پیاری اولاد دیکھنے سے ایک فرحت پیدا ہوتی ہے۔ اپنے محبوب دوست کو دیکھنے سے طبیعت میں فرحت آتی ہے۔ انسان کا باطن اس خوشگوار تبدیلی کو محسوس کرتا ہے۔ اس کیفیت کا اظہار لکھنے ، پڑھنے اور بیان کرنے سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔

جس طرح پھولوں کی خوشبو ہے، آپ اس کی کیفیت کومحسوس کرلیتے ہیں لیکن اسے بیان یا تحریر نہیں کر سکتے ہیں۔ باغ میں پھولوں کو دیکھ کر طبیعت میں ایک فرحت پیدا ہوتی ہے۔ اچھے قدرتی مناظر کو دیکھ کر طبیعت میں تازگی آتی ہے، طبیعت کا بوجھ کم ہوتا ہے۔ جس طرح کسی اچھی چیز کو دیکھنے سے جسم کو فوائد پہنچتے ہیں اسی طرح کسی اچھے انسان کو دیکھنے سے، اللہ کے مقرب اور صالح بندے کو دیکھنے سے، اس کی مجلس میں بیٹھنے سے وہی خوشگوار اثرات روح پربھی مرتب ہوتے ہیں۔

ماحول کے جسم اور روح پر اثرات

قدرت کا ایک نظام ہے جس طرح چیزیں جسم پر اثرات مرتب کرتی ہیں اسی طرح اشیاء اور ماحول کے اثرات قلب و روح پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔اللہ تعالی نے عالم مادیات میں انسان کو پانچ حواس عطا کئے ہیں۔ ان حواس خمسہ سے وہ دیکھتا، چھوتا، سونگھتا، چکھتا اور سنتا ہے ۔انہی پانچ حواس کے ذریعے سے انسانی جسم پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جب من پسند کھانے کا ذائقہ چکھتے ہیں تو ایک لطف اندوز کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ کئی لوگ موسیقی (Music)سنتے ہیں ۔ان کو اس سے فرحت ملتی ہے۔بعض لوگ نعت سنتے ہیں تو اس سے طبیعت میں راحت ملتی ہے۔کچھ لوگ قوالی سنتے ہیں تو اس سماع سے ان پر ایک کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔الغرض ظاہراً خود کوئی عمل نہیں کیا ماحول سے خوشبو کا جھونکا آیا توطبیعت تر و تازہ ہو گئی۔

اسی طرح ایک عالم قلب اور روح بھی ہے۔حواس خمسہ ظاہری کی طرح باطنی حواس بھی ہیں۔ روح کے بھی احساسات ہیں اور اس پر بھی کیفیات طاری ہوتی ہیں۔جب کوئی خوش الحان قاری قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کرتا ہے تو اس سے نہ صرف جسم پر اثرات وارد ہوتے ہیں بلکہ روح بھی سرشار ہوجاتی ہے اور ایمان کے نور میں اضافہ ہوتا ہے۔روح کی اس کیفیت کا تذکرہ قرآن مجید ان الفاظ میں فرماتا ہے۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُکِرَ اﷲُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰـتُهُ زَادَتْهُمْ يْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّهِمْ يَتَوَکَّلُوْنَo

(الانفال، 8: 2)

’’ایمان والے (تو) صرف وہی لوگ ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے (تو) ان کے دل (اس کی عظمت و جلال کے تصور سے) خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ (کلامِ محبوب کی لذت انگیز اور حلاوت آفریں باتیں) ان کے ایمان میں زیادتی کر دیتی ہیں اور وہ (ہر حال میں) اپنے رب پر توکل (قائم) رکھتے ہیں (اور کسی غیر کی طرف نہیں تکتے)o‘‘۔

اسی طرح وضو باطنی طہارت کا ذریعہ ہے اس کے اثرات بدن پر وارد ہوتے ہیں۔ظاہراً ہم جسم کو دھوتے ہیں، وضو سے پانی جسم کے اندر تو نہیں جاتا مگر اس وضو اور طہارت کا ایک نور ہے جو قلب و باطن میں اترتا ہے۔ غسل میں بھی جسم کو دھویا جاتا ہے مگراس طہارت کے اثرات باطن پر بھی مرتب ہوتے ہیں ۔اسی طرح کسی کے ساتھ بیٹھنے اوراس کی قربت سے روح پر بھی کیفیات وارد ہوتی ہیں۔

مجالس کے انسانی زندگی پر اثرات

یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ ماحول کے انسانی جسم اور روح دونوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں تو اس بات کو سمجھنا مشکل نہیں رہاکہ مجالس کے اثرات انسان کے کے ظاہر اور باطن دونوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ انہی اثرات کا ذکر اللہ رب العزت نے اس آیت کریمہ میں فرمایا۔

يَرْفَعِ اﷲُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ لا وَالَّذِيْنَ اُوْتُو الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ط

(المجادلة، 58: 11)

’’اللہ اُن لوگوں کے درجات بلند فرما دے گا جو تم میں سے ایمان لائے اور جنہیں علم سے نوازا گیا‘‘۔

گویا مجالس انسان کے ظاہر اور باطن پر ایسے اثرات ڈالتی ہیں کہ اس کے ظاہری و باطنی درجات میں اضافہ ہوتا ہے۔ لہٰذا جب مجلس کا انتخاب کریں تو ضرور دیکھیں کہ کس مجلس میں بیٹھنا ہے اور کس میں نہیںبیٹھنا۔ صاحبِ مجلس منتخب کرتے ہوئے بھی دیکھیں کہ کس کی مجلس میں بیٹھا جائے اور کس سے بچا جائے۔ انتخاب احتیاط سے کریں کیونکہ ان مجالس کا اثر آپ کے ظاہر و باطن دونوں پر مرتب ہونا ہے۔اگر مجلس گپ شپ، غیبت، چغلی، کذب، جھوٹ، مبالغہ آرائی، کسی دوسرے کا ٹھٹھہ و مذاق کی ہوگی تو اس کے اثراتِ بد بھی قلب ، باطن اور روح پر مرتب ہوں گے۔خواہ یہ مجلس دو تین بندوں کی ہی کیوں نہ ہو۔

اگرچہ کوئی شخص بری مجلس میں خاموش بیٹھا رہے ۔وہ چاہے منہ سے کچھ نہ کہے محض سنتا رہے تو بھی برائی کے اثرات اس شخص کے ظاہرو باطن پر مرتب ہوں گے، کیونکہ قوتِ سماعت کے ذریعے باطن پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حالانکہ اس نے برائی خود نہیں کی، تو دیکھنے کے چینل سے اس برائی کے اثراتِ بد اس کے اندر داخل ہو گئے۔اگر ہمیں ماحول میں کچھ سنائی دے رہا، کچھ دکھائی دے رہا ، کچھ ہم سونگھتے اور کچھ محسوس کرتے ہیں، پھر یہ ساری feeling ایک تصور بناتی ہیں۔ انسان کے اندر کی ایک نفسیات بنتی ہے اور ایک مینٹل انوائرمنٹ بنتا ہے۔

مجالس العلم کے انسانی اعمال پر اثرات

قرآن مجید کی مذکورہ آیت کریمہ جہاں یہ واضح کر رہی ہے کہ مجالس سے انسان کے ظاہر اور باطن دونوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور مجالس العلم درجات کی بلندی کا باعث بنتی ہیں، وہاں یہ بھی واضح کر رہی ہے کہ اِن مجالس کے اثرات انسانی اعمال پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔اللہ رب العزت نے اس آیت کریمہ کے آخر میں ارشاد فرمایا:

وَاﷲُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌo

اللہ اُن کاموں سے جو تم کرتے ہو خوب آگاہ ہےo

اس آیت کریمہ کے مضمون کو دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ آیت میں ذکر مجالس کے آداب، ایمان اور علم کا ہو رہا ہے ۔اس آیت میں عمل کا کوئی ذکر نہیں ہوا بلکہ بیان ہواہے کہ جب تمھیں کہا جائے کہ مجالس میں وسعت پیدا کرو تو کشادگی پیدا کر دو، کہا جائے کہ کھڑے ہو جاؤ تو تم کھڑے ہو جاؤ اور پھر فرمایا: جو صاحب ایمان اور صاحب علم ہیں اللہ ان کا درجہ بلند کرے گا۔غور طلب بات ہے کہ کہیں بھی عمل کا کوئی ذکر نہیںآیا۔ مگر اللہ رب العزت نے اختتام پر فرمایا کہ جو عمل تم کرتے ہو اللہ اس سے بخوبی باخبر ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اوپر جو بیان ہوا اس سے جو ماحول پیدا ہو رہا ہے، وہ آپ کو ایک خاص طرزِ عمل کی طرف لے جا رہا ہے۔ وہ آپ کے اندر عمل کی ایک نہج متعین کر رہا ہے۔ اس سے آپ کے عمل کا تعین ہو رہا ہے کہ آپ کیسے عمل کرنے والے بنیں گے اور کس طرح کا عمل آپ کی زندگی میں داخل ہو گا۔

مجالس نبویہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جامعیت

قرآن مجید میں جب مجالس کا ذکر آیا تو اس سے مراد معنی خاص میں تو مجالس نبویہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، جس سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کسبِ فیض حاصل کرتے تھے۔ آقا علیہ السلام کی ہر مجلس مجلسِ علم ہوتی تھی۔آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجالس ہمہ جہت ہوتی تھیں۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجالس ذکر، تلاوتِ قرآن، تفسیر، حدیث، فکرآخرت، فقہ ، دعوت، تدبیر اور استفتاء تمام موضوعات پر محیط ہوتی تھیں۔ الغرض آقا علیہ السلام کی ہر مجلس جامع المقاصد ہوتی تھی۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر مجلس چاہے وہ سالانہ، ماہانہ، ہفتہ واریا یومیہ ہوتی، مجلسِ علم ہوتی تھی۔ ان شاء اللہ ہم بھی اپنی ان مجالس کو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی اتباع میں ہمہ جہت بنانے کی کوشش کریں گے۔

ماخوذ از: ماہنامہ منہاج القرآن، دسمبر2015

تبصرہ