کالج آف شریعہ منہاج یونیورسٹی کے کانووکیشن سے شیخ الاسلام کا خطاب (قسط دوم)

قسط اوّل ملاحظہ کرنے کے لیے یہاں کلک کیجیے

ترتیب و تدوین: محمد حسین آزاد،

معاونت: نازیہ عبدالستار

حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مسجد نبوی میں ایک بورڈنگ سکول بنایا۔ ایک ایسا سکول اور ایک ایسا کالج قائم فرمایا یا ایک ایسی جامعہ قائم فرمائی جس میں طلباء رہائش رکھتے اور آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو تعلیم دیتے۔ اردگرد جتنی آبادیاں تھیں سات سو سے لے کر ایک ہزار تک طلباء اس تعلیمی اور تربیتی سکول میں تھے۔ جو دور قبائل تھے یا مدینہ پاک کے اردگرد جتنی آبادیاں تھیں ان میں جو تعلیم حاصل کرنے مدینہ پاک نہیں آسکتے تھے ان کے لئے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ٹیچرز اور ٹرینرز کی تقرری فرمائی اور ان کو دور قبائل میں بھیجا۔ ایک مرتبہ ستر ٹیچرز بھیجے جن کو کفار نے دھوکے سے شہید کردیا مگر پھر بھی آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم دلبرداشتہ نہیں ہوئے۔ دور دور قبائل میں ٹیچرز بھیجتے رہے۔ تاکہ ان کے قبائل میں جاکر انہیں پڑھائیں اور جو قبائل اور آبادیاں مدینہ شہر کے قریب قریب تھیں ان کوہدایات جاری فرمائیں کہ وہ مدینہ شہر کے قریب شفٹ ہوجائیں تاکہ وہ آسانی سے آکر جو سکول شہر مدینہ میں قائم ہوئے ہیں۔ ان میں آکر استفادہ کرسکیں۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرکزی سکول صفہ کے علاوہ شہر مدینہ میں مختلف علاقوں میں مزید 9 سکول قائم کئے۔ جبکہ شہر چھوٹا سا تھا پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سٹڈی سرکلز کا آغاز کروایا۔

حدیث نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ہے کہ مسجد نبوی میں آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے کہ دو حلقات (سرکل) تھے۔ ایک حلقۃ الذکر تھا، ایک حلقۃ العلم تھا۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم خود علم کے حلقے میں جاکر بیٹھ گئے اور فرمایا:

’’مجھے اللہ نے علم دینے والے کے طور پر مبعوث کیا ہے‘‘

یعنی علم کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ پھر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تعلیمی سرگرمیوں کو خود کنٹرول کرتے اور یہ بھی دیکھتے کہ کیا پڑھایا جارہا ہے؟ ایک دن آپ نے اپنے حجرہ مبارک میں آواز سنی کہ مسجد نبوی کے حلقے میں کچھ لوگ ایسے مضمون پر بحث کررہے ہیں جو ابھی Discuss کرنے کے قابل نہیں تھا۔ آپ باہر تشریف لے آئے اور ان کو منع فرمادیا کہ خبردار اس چیزکو ابھی تم بحث میں نہ لائو کیونکہ ابھی تمہارے پاس اس کی مکمل معلومات نہیں ہیں۔

فرماتے ہیں کہ پہلی امتیں بھی ایسے مسائل میں الجھ کر گمراہ ہوگئیں۔ اسی طرح شرح خواندگی کو بھی آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑھایا اور پہلی مرتبہ تجارتی لین دین کے سلسلے میں تحریری ریکارڈ بھی شروع کروایا۔ قرآن مجید میں اس کی باقاعدہ آیت اتری:

يٰـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوْهُ ط وَلْيَکْتُبْ بَّيْنَکُمْ کَاتِبٌم بِالْعَدْلِ.

’’اے ایمان والو! جب تم کسی مقررہ مدت تک کے لیے آپس میں قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور تمہارے درمیان جو لکھنے والا ہو اسے چاہیے کہ انصاف کے ساتھ لکھے۔‘‘

(البقرة، 2: 282)

علاوہ ازیں آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تحریری کام کو مزید وسعت دی اور اس کا سکوپ بڑھادیا۔ اس طرح دو سو انتیس لیٹرز اور معاہدات اور آفیشل ڈاکومنٹس جس پر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مہر تھی وہ جاری کئے گئے۔ 10 سال کے عرصہ کے علاوہ بھی مسلم کمیونٹی کے لئے 255انٹرنیشنل ڈاکومنٹس، ہدایات اور ڈپلومیٹک ڈاکومنٹس جاری کئے۔ جن پر باقاعدہ آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مہر ہے۔ ان سب کو ملاکر تقریباً 700 ڈاکومنٹس جو آقا علیہ السلام نے اپنی مہر کے ساتھ جاری کئے اور لیٹرز بھی بھیجے۔

لہذا لکھنے پڑھنے اور تحریری ریکارڈ رکھنے کا کلچر آقا علیہ السلام نے قائم کیا اور تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ سب سے پہلی شخصیت جنہوں نے خط پر مہر لگانے کا آغاز کیا تاکہ ثابت ہو کہ یہ آفیشل ڈاکومنٹ ہے وہ حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں پھر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریسرچ ورک کا آغاز کیا۔ تحقیق کرنے کا کلچر پیدا کیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مختلف مضامین کے لئے تخصص کروایا۔ ہر ایک پہلو پر ان کی تعلیم و تربیت کی اور اصلاح فرمائی۔ اس چیز کی اصل حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے نظر آتی ہے۔

جیسے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو قرآن پڑھنا چاہئے وہ ابن ابی کعب رضی اللہ عنہ کے پاس جائے (کیونکہ وہ اس کا سپیشلسٹ ہے) جو فقہ پڑھنا چاہے اور جو حلال و حرام کو جاننا چاہئے وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس جائے (وہ اس کا سپیشلسٹ ہے) جو فرائض اور وراثت کے بارے میں معلومات لینا چاہے وہ حضرت زید ابن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس جائے (وہ اس کا سپیشلسٹ ہے) اور فرمایا: جو کوئی فنانس کے بارے میں پوچھ گچھ کرنا چاہے وہ میرے پاس آئے۔

اس سے معلوم ہوا کہ آقا علیہ السلام نے باقاعدہ سپیشلائزیشن کا کلچر قائم کردیا تھا۔ پھر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصابات وضع کئے۔ جو کچھ مضامین پڑھائے جاتے تھے ان کی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ٹیچنگ ہوتی تھی اور باقاعدہ آقا علیہ السلام ان کو تعلیم دیتے تھے۔ اس میں ریڈنگ بھی تھی، اس میں ان کی وضاحت بھی تھی۔ اس میں لاء بھی تھا، اس میں اخلاقیات بھی تھیں، اس میں عمرانیات بھی تھیں۔ اس میں نیزہ بازی تھی، اس میں تیراکی تھی، اس میں حساب کا علم تھا، سوئمنگ تھی اور علم الوراثت بھی تھا۔ میڈیسن بھی تھی، ایسٹرانومی تھی، ایگریکلچر تھا، ٹریڈ تھی، کامرس تھا۔

یہ وہ سبجیکٹ تھے جو مسجد نبوی میں آقا علیہ السلام نے خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پڑھائے اور ان کے ذریعے امت تک پہنچے۔ ا س سے علم کو فروغ ملا۔ اس طرح بالخصوص خواتین کی تعلیم کا حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بندوبست کیا۔ پڑھی لکھی خواتین کو بطور ٹیچر مقرر کیا، خود بھی ایک دن مقرر تھا اور خواتین کو تعلیم دیتے تھے۔ یہ چند نمونے میں نے اس لئے بیان کئے کہ آپ اندازہ فرماسکیں کہ علم کی عملاً سرپرستی حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس قدر کی ہے۔ یہ وہ سرپرستی تھی جس کے باعث ایک صدی کے اندر اندر وہ عرب جنہیں ان پڑھ کہتے تھے وہ ایک صدی میں پوری دنیا کی نگاہوں کا مرکز بن گئے۔ دو سو سال پورے نہیں ہوئے تھے کہ شرق سے غرب تک یورپ کی دنیا عالم اسلام کے پاس علم حاصل کرنے کے لئے آنے لگے۔

امت کو کس نے اس قابل بنادیا خواہ وہ بغداد کی سرزمین تھی خواہ وہ قرطبہ تھا خواہ وہ دمشق تھا، خواہ وہ غرناطہ تھا۔ خواہ وہ نیشاپور تھا، خواہ وہ حجاز تھا، خواہ وہ خراسان تھا، خواہ سپین تھا جہاں بطور خاص یورنیورسٹیاں کھل گئی تھیں۔ جو سرپرستی حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی وہ سرپرستی بعد کے ادوار میں مسلم رولز کی طرف سے جاری رہی۔

اس سلسلے میں صرف ایک حوالہ دینا چاہوں گا۔ ویسٹرن سکالر اور نامور مورخ ہیں روبرٹ بیفالٹ وہ اپنی کتاب The Making of humanity میں تحریر کرتے ہیں کہ جس کا ایک پیراگراف میں آپ کو سناتا ہوں وہ لکھتے ہیں کہ

’’اپنے وقت کے سلاطین، خلفائ، امراء اور وزراء اپنے آفس کا کام ختم کرتے ہی کسی قریبی لائبریری یا اہل علم کے حلقہ میں بطور طالب علم گھٹنے ٹیک کر بیٹھ جاتے تھے‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ آقا علیہ السلام نے یہ کلچر اور یہ شغف پیدا کردیا تھا۔ وہ دور بھی تھا جب علم کے کاروان چلتے تھے اور اونٹوں پر مسودات پوری دنیا میں جمع کرکے سرکاری طور پر لائے جاتے تھے۔ مصر سے لے کر سپین تک ہزاروں مخطوطے اور علم کے خزانے، ہاتھوں کے لکھے ہوئے لاد لاد کر دارالخلافہ میں لائے جاتے تھے۔ اس دور میں علم کی اتنی سرپرستی کی جاتی تھی۔ استنبول اور کینیڈا میں بھیجا جاتا تھا کہ وہاں مخطوطے ہیں اور ٹیچر ہیں ان کو بلایا جاتا تھا۔ اسلامی دور کے مرکزی بڑے شہروں میں بطور پروفیسر Appoint کیا جاتا تھا تاکہ پوری دنیا کا علم جمع ہوجائے اور فروغ پذیر ہو۔

ایک سلطنت کی فتح کے بعد یہ کہا گیا کہ ہمیں اچھے ٹیچر دے دو تمہیں آزاد کردیتے ہیں۔ اسی طرح کوئی مسجد نہیں بنائی جاتی تھی جب تک اس کے ساتھ ایک سکول نہیں ہوتا تھا تاکہ جو نماز پڑھنے آئیں وہ بھی کچھ سیکھ کر جائیں۔ اس طرح شرح خواندگی بلند ہوئی اور امت کو Educate کیا گیا۔ ہر سطح پر لائبریریاں قائم ہوتیں اور قابل طلباء کو وظائف دیتے تاکہ علم کی سرپرستی ہو۔ ہر شخص اس کو اپنے لئے اعزاز سمجھتا تھا اور اہل علم کو ہر ایک پر ترجیح دی جاتی تھی مگر آج معاملہ الٹ ہے۔ آج اہل علم پارلیمنٹ میں جانہیں سکتا۔ الا ماشاء اللہ آج کا زمانہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں جانے کے لئے اور وزیر بننے کے لئے علم نااہلیت ہے، شرافت نااہلیت ہے۔ امانت و دیانت نااہلیت ہے، سیرت و کردار نااہلیت ہے، رزق حلال نااہلیت ہے۔ جس کے پاس یہ خوبیاں ہیں وہ ممبر پارلیمنٹ بن سکتا ہے نہ آپ کا وزیر بن سکتا ہے نہ حکمران بن سکتا ہے پھر شکوہ کس چیز کا ہے کہ امت تباہ حال ہے اور امت بکھر گئی ہے۔ امت تو بلند ہوئی تھی علم کے ساتھ، امت بلند ہوئی تھی کردار کے ساتھ، امت بلند ہوئی تھی ریسرچ کے ساتھ۔ اب علم کا وہ کردار ختم ہوگیا ہے کیونکہ اب اس کی سرپرستی نہ رہی۔

جبکہ علم کی سرپرستی کی وجہ سے قرون اولیٰ میں نہ صرف اسلام پھیلا بلکہ اسلام کو عروج ملا ہے۔ امت مسلمہ آج کے امریکہ اور کسی زمانے کے برطانیہ اور روس کی طرح پوری دنیا میں حکمرانی کرتی تھی۔ جس میں تین براعظم اور 2 سمندر آتے تھے۔ امت کا ترقی کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچنا صرف علم کا مرہون منت تھا۔

ایک چیز یاد رکھ لیں کہ علم اور امارت شاذو نادر ہی جمع ہوتے ہیں۔ اس استثنیٰ میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور اللہ کے پیغمبر سیدنا دائود علیہ السلام اور سیدنا سلیمان علیہ السلام بھی ہیں مگر اکثر علم کے ساتھ امیری جمع نہیں ہوتی، یہ تقسیم ہے لہذا اگر علم کی راہ میں غربت آئے، تنگی آئے، تنخواہ کم ملے، وسائل کم ہوں، راحت کم ہو تو پریشان نہ ہوں کیونکہ اس علم کی راحتیں اللہ رب العزت نے اپنے پاس سنبھال کر رکھی ہیں۔ تمہیں وہ عطا ہوں گی کیونکہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس علم صالح کے نتیجے میں آپ کو دینے کے لئے اس کا ایک ذرہ بھی اس دنیا میں اور کائنات میں نہیں جس کو علم کے لئے چن لیا گیا اس کے لئے ہی فخر کافی ہے۔ وہ اپنے علم کو صالح بنائے اپنے علم کو نافع بنائے اور اپنے علم کو لے کر آگے بڑھے۔ یہ صالح اور نافع کیسے بنے گا؟

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین علم کے حصول کے لئے، علم کا ایک حصہ لینے کے لئے، ایک ایک حدیث لینے کے لئے مدینہ سے سفر کرتے مصر جاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ایک شخص فضیلہ بن عبید مدینہ سے چل کر مصر گیا صرف علم کا ایک حصہ لینے کے لئے اور حدیث کا علم لے کر واپس آگئے۔ آج کے دور کی طرح اس زمانے میں کوئی فلائٹ یا ٹرین یا کوئی گاڑی نہیں تھی بلکہ اونٹوں پر سفر کرتے تھے یا پیدل سفر ہوتے تھے۔

آقا علیہ السلام نے علم سے رغبت اور علم سے محبت اتنی پیدا کردی تھی کہ میری حدیث کی کتاب اربعین ہے ’’حسن تکریم فی تعلیم وتعلم‘‘ پر اس میں راوی روایت کرتے ہیں کہ میں دمشق کی جامع مسجد میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ صحابی رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ سے چل کر آیا اس نے کہا:

انی جئتک من مدينة الرسول.

’’میں چل کر مدینہ پاک سے آیا ہوں۔ صرف اس لئے آیا ہوں کہ مجھے خبر ملی ہے کہ آپ کے پاس آقا علیہ السلام کا عطا کردہ علم ہے۔ بس وہ مجھے دے دیں۔‘‘

اس (زمانے میں حدیث کو علم کہتے تھے) وہ لے کر واپس چلے گئے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ جو آقا علیہ السلام کے کزن تھے اور اہل بیت میں سے تھے وہ آقا علیہ السلام کے بعد اپنے سارے دوستوں کو کہتے کہ فلاں شخص کے پاس علم ہے چلو جاکر حاصل کریں۔ وہ اس شخص کے دروازے پر جاتے پتہ چلتا کہ وہ سویا ہوا ہے تو وہ اس کے دروازے کے سامنے زمین پر لیٹ جاتے تاکہ کہیں نکل کر چلا نہ جائے اور جب وہ باہر نکلے گا تو سامنے لیٹے ہوں گے۔ وہ آپ کو دیکھ کر کہتے اے عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ!

آپ ہمیں بلوابھیجتے۔ ہم آپ کے پاس آجاتے۔ وہ فرماتے نہیں کیونکہ میں علم لینے کے لئے آیا ہوں اور جو طالب علم ہو اس کی شان یہی ہے کہ وہ زمین پر لیٹے۔ علم کی قدر یہ ہے وہ فرماتے ہیں ہوا چلتی تو مٹی میرے منہ پر آجاتی مگر وہ حصول علم کے لئے گئے تھے اس لئے برداشت کرتے۔ لہذا حصول علم ایسی مشقتوں کے بغیر نہیں ہوتا۔ یہ تکلیفوں سے ہوتا ہے۔ مصائب سے ہوتا بھاگ دوڑ سے ہوتا ہے۔ فاقوں سے ہوتا ہے۔

امام حمادی عطاء بن ابی رباح روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ (بڑے جلیل القدر صحابی رضی اللہ عنہ) وہ مصر گئے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس اور ان سے کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ ایک حدیث کا علم آپ کے پاس ہے میں بس وہ لینے آیا ہوں۔ انہوں نے کہا خدا کی قسم اور کسی وجہ سے نہیں آیا۔ انہوں نے وہ علم لیا اور اسی لمحے کھڑے کھڑے مدینہ واپس چلے گئے۔ اس بات سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ وہ لوگ کتنی محنت کرتے تھے۔

اسی طرح حضرت ابوعالیہ روایت کرتے ہیں۔ ہم سنتے تھے کہ بصریٰ میں ایک شخص کے پاس ایک روایت ہے تو ہم مدینہ سے چل کر بصریٰ پہنچتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلے زمانے میں لوگ حصول علم کے لئے کتنا سفر کرتے تھے۔ جبکہ آج ہمیں ایک سکول، مدرسہ، کالج، یونیورسٹی اور ایک ادارے میں بیٹھے سارا علم اساتذہ کے ذریعے مل جاتا ہے۔ وہ کتنے عظیم لوگ تھے جو علم کا ایک ٹکڑا لینے کے لئے ہزارہا میلوں کی مسافت اونٹوں پر یا پیدل طے کرکے بھوک اور پیاس کے عالم میں حاصل کرتے تھے۔ مجھے میرے والد گرامی جب پڑھاتے تھے (جو بہت بڑے محدث ، فقیہ، صالحین اور اہل اللہ میں سے تھے) ان کا ایک جملہ مجھے یاد ہے۔

’’وہ فرماتے ہیں: ’’وہ علم جو ہندوستان اور بغداد اور شام، مصر اور حرمین شریفین اور دنیا بھر کے ممالک کی خاک چھان چھان کر پوری زندگی میں نے جمع کیا آپ کو ایک پلیٹ میں اسی چارپائی پر بیٹھے مل رہا ہے‘‘۔

اس طرح امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اکابر ائمہ حدیث اور اس طرح اس میں ابن بطوطا، البیرونی، ابن سینا (ماڈرن نالج کو حاصل کرنے والے) 40,40 سال سفر کرتے تھے۔ علم اتنی مشقتوں سے حاصل ہوتا تھا جبکہ علم کا حصول آج آسان ہوگیا ہے۔ آج اسی علم کے ذریعے آپ کو عزت ملتی ہے۔ میں اپنی بیٹیوں اور بیٹوں سے کہتا ہوں کہ ہماری پہچان مال و دولت سے نہیں ہے۔ نہ میں امیر کبیر آدمی ہوں اور نہ آپ کے پاس مال و دولت ہے۔ نہ دنیاوی منصب و عہدہ، نہ جاہ و اقتدار ہے نہ کوئی بڑی تجارت و کاروبار ہے۔ ہم متوسط لوگ ہیں۔ ہمارے پاس یہ چیز نہیں ہے۔ ہماری پہچان دین علم صالح اور کردار کے ساتھ ہے۔ اگر اس میں بھی آپ مار کھاگئے تو پھر نہ دنیا کے رہے نہ آخرت کے رہے۔

سو آپ کو اس علم کو نافع بنانا ہوگا۔ نافع بنانے کے لئے اس علم کے ساتھ ادب اور تقویٰ کو شامل کرنا ہوگا۔ اگر آپ کی نمازیں چھوٹیں تو علم دین آپ کے اندر تقویٰ پیدا نہیں کرے گا۔ نور کتابوں کو پڑھ کر پیدا نہیں ہوتا۔ کتابیں آپ جانور پر بھی لاد دیں وہ بھی اٹھا کر پھرتا ہے۔ اگر چاہیں اس علم میں نور آجائے تو قرآن کہتا ہے:

أََفَمَنْ شَرَحَ اﷲُ صَدْرَهُ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهِ.

’’بھلا، اللہ نے جس شخص کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا ہو تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر (فائز) ہوجاتا ہے‘‘۔

(الزمر، 39: 22)

ماخوذ از ماہنامہ دخترانِ اسلام، مارچ 2016

تبصرہ