غیبت اور چغلی سے اجتناب

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا خواتین کے شہر اعتکاف سے تربیتی خطاب

ترتیب و تدوین: محمد حسین آزاد

معاونت: ملکہ صبا

بحمدللہ تعالیٰ آج خواتین کے لئے بطور خاص تربیت کے حوالے سے ایک نکتہ بتانا چاہتا ہوں۔ وہ ایک بشری خرابی ہے جس میں چغلی، غیبت، دوسروں پر تبصرہ کرنا، رائے دینا، شکوہ شکایت کرنا شامل ہے۔ یہ خرابی مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔

میں نے ایسی خواتین بھی اپنی ابتدائی زندگی میں دیکھی ہیں کہ وہ تقریباً سارا دن عبادت کرتی تھیں۔ نماز اشراق، نماز اوابین اور نوافل بھی کثرت سے پڑھتی تھیں، تسبیحات کرتی تھیں، قرآن مجید کے کئی پارے روز تلاوت کرتیں، درود پاک پڑھتیں۔ اگر ان کی عبادت کا حساب لگایا جائے تو ایسی خواتین یقینا ولی اللہ بنائی جاتیں مگر میں ساتھ یہ بھی دیکھتا تھا کہ جب ساری عبادات و تلاوت اور ذکرو اذکار سے فارغ ہوتیں اور آپس میں بیٹھ جاتیں تو پھر بس کسی دوسری عورت کا ذکر کرکے اس کی غیبت شروع کردیتیں۔ جیسے عبادت کی کوئی حد نہیں ہوتی تھی ایسے ہی جب فارغ ہوکر بیٹھ کر غیبت کرنا شروع کرتیں تو اس کا بھی کوئی حساب نہیں ہوتا تھا۔

لہذا نیک اعمال کو ترک کرنا ایسے ہی ہے جیسے تختی پر لکھتے رہے اور آخر میں پانی کے ساتھ سب صاف کردیا۔ اسی طرح غیبت کرکے تمام اعمال کو ضائع کردیا جاتا۔ (میں جب بالکل نوجوان تھا تب بھی یہی بات دل میں سوچتا تھا کہ کاش یہ خواتین جن کی میں بات کررہا ہوں اس غیبت کی عادت کو ترک کردیں تو ولی بن جائیں)

قدوۃ الاولیاء حضرت شیخ سیدنا طاہر علائوالدین القادری رحمۃ اللہ علیہ بہت سے لوگوں کا ایسا حال مجھے بتاتے تھے کہ لوگ اللہ کے دین کی اتنی خدمت کرتے ہیں کہ سارا دن روکھی سوکھی پر گزارتے ہیں۔ مسجدوں میں پنجگانہ نمازوں کی امامت کرواتے ہیں۔ قرآن و حدیث کا درس دیتے ہیں، عوام الناس کو راہ ہدایت دیتے ہیں۔ الغرض اتنی خدمت دین کرتے ہیں ان میں اگر ایک خرابی حسد نہ ہو تو یہ سارے علماء اولیاء بن جائیں مگر سارا کچھ کرکے دوسرے کو برداشت نہیں کرتے۔ خودپسندی، حسد، تکبر یہ ساری نیکیوں کو برباد کردیتا ہے۔

لہذا میری بہنیں اور بیٹیاں دھیان سے سنیں جتنے کام آپ کرتی ہیں یہ سارے کام ایسے ہیں کہ ایک ایک کام جنتیوں کی کتاب میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ اگر ہم ان کاموں کو، نیکیوں کو، عبادتوں کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ایک عمل غیبت اور چغلی سے پرہیز کریں کیونکہ جو غیبت کرتا ہے وہ دوسرے کا ٹھیکیدار بن جاتا ہے اور دوسرے کے Character، مزاج، شخصیت، رویے اور نیت پر Comment کرتا ہے یعنی جو اللہ تعالیٰ جانتا ہے ہر شخص اپنا حق سمجھتا ہے دوسرے پر Comment کرنا اور ہم میں جو ذرا تیز ہوتی ہیں ان کے پاس بڑا ہنر ہوتا ہے۔ لگتا نہیں ہے کہ وہ شکایت کررہی ہیں۔ وہ ظاہر کرتی ہیں کہ ہم اپنے معاملات کو Improve کرنے کے لئے کررہی ہیں حالانکہ وہ کردار کشی کررہی ہوتی ہیں۔ دوسرے کی منفی بات کرتی ہیں کہ اس کا عمل، کردار، لباس، بول چال یہ سب کچھ معیوب کن ہے۔

اس طرح Character کو قتل کیا جاتا ہے۔ یہ سارا عمل چغلی اور غیبت ہے اور پھر اس سے جھوٹی افواہیں پھیلتی ہیں۔ ایک نے دوسرے کو دوسرے نے اگلے سے حتی کہ A سے Z تک بات پہنچ جاتی ہے۔ A نے B سے کی تو ایک سینٹی میٹر بڑھ گئی۔ C سے D تک مزید بڑھ گئی حتی کہ Z تک پہنچی تو 10 گز تک پہنچ گئی۔ اس سے ہم اپنی نیکیاں برباد کردیتے ہیں اور ہر روز جو عمل صالحہ کرتی ہیں وہ اس غیبت کی وجہ سے شام کو سونے سے پہلے برباد کرکے صفر کرکے سوتی ہیں۔

بتائیں اس سارے عمل کے باعث ہم نے کس کا بگاڑا اپنایا اس کا جس کی غیبت کی، منفی بات کی، تبصرہ کیا، تجزیہ کیا، بیان کیا، خبر دی جو کچھ بھی کہا بگاڑا کس کا؟ یاد رکھیں جس نے کسی کے بارے میں جو کچھ برا کہا اس نے اپنا آپ بگاڑا۔ دو وجہ سے ایک تو یہ کہ دن بھر نیکیاں کی تھیں وہ غیبت اور چغلی کرکے سارا صفایا ہوگیا۔ نامہ اعمال صفر ہوگیا اور اگر روز یہی عمل کرتا رہے کہ صبح اٹھ کر نیکیاں کرے مگر غیبت کرکے رات کو ختم کردیا تو پھر اس کا حال ایسے ہے جیسے کولہو کے بیل کی طرح جہاں سے چلے تھے وہیں پر کھڑے ہیں۔ لہذا غیبت اور چغلی انسان کے عمل، کردار، تقویٰ اور نیکیوں کو برباد کردیتی ہے۔

دوسرا نقصان یہ کہ جس کے بارے میں آپ نے Comment کیا، منفی بات کی چونکہ وہ موجود نہ تھا پشت پیچھے کی لہذا آپ کی نیکیاں برباد ہوگئیں اور آپ کے غیبت کرنے سے اس کے گناہ مٹادیئے گئے اور آپ کے نامہ اعمال میں ڈال دیئے گئے حالانکہ نہ اس نے نفل پڑھے تھے، نہ تسبیح کی، نہ عبادت کی، نہ محنت کی۔ ممکن ہے وہ آرام سے گھر سوئی ہوئی ہو مگر اس کو نیکیاں مل گئیں۔ اس کے گناہ گھٹ گئے۔ آپ کی نیکیاں مٹ گئیں، آپ کے گناہ بڑھ گئے، کیا حاصل ہوا؟ اس طرح ماحول بھی پراگندہ ہوتا ہے۔

بعض اوقات جھوٹا الزام لگادیا جاتا ہے الزام میں اس لئے کہتا ہوں کہ اگر ایک شخص نے کہا کہ وہ بدکار ہے۔ اب بدکاری کرتے ہوئے اس نے آنکھوں سے دیکھا تو نہیں ہوگا۔ اسی طرح آپ کسی کے بارے میں کہہ دیں کہ وہ بڑا گناہگار ہے اور اسے آپ نے گناہ کرتے ہوئے دیکھا نہ ہو۔ کسی سے سنا ہی تو یہ بات یاد رکھ لیں کہ صرف دو ہستیوں سے سننے میں غلطی نہیں ہوسکتی۔ ایک اللہ سے سنیں۔ دوسرا اس رسولA سے سنیں۔ باقی ہر بشر اپنی Assesment میں غلط ہوسکتا ہے تو آپ نے جب ایسا کلمہ بولا جو کسی سے سنا تھا۔ خدا جانے اس نے آگے کسی سے سنا تھا اور بات چلتے چلتے آپ تک پہنچی۔

اب وہ بات کتنی سچی تھی اور کتنی جھوٹی تھی اس کی خبر نہیں۔ آپ سے قبر میں اس کے بارے میں سوال بھی نہیں ہونا کہ فلاں بدکار تھا یا نہیں تھا؟ فلاں گناہ گار تھا یا نہیں تھا؟ منافق تھا یا نہیں تھا؟ آپ سے صرف یہ پوچھا جائے گا کہ اپنی سنا تو رب کو جانتی ہے؟ اپنے دین کو جانتی ہے؟ اپنے رسول کو پہچانتی ہے؟ لہذا جو نیک اعمال لے کر گیا ہوگا صرف اس کو توفیق ہوگی کہ وہ صحیح جواب دے سکے۔ اس سنی سنائی بات کو آگے پہچانے والے کے لئے آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ سنی سنائی بات کو آگے کردینا جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے۔

اب بتائیں کتنی باتیں ایک دوسرے کے بارے میں ہم لوگ کرتے ہیں کہ فلاں مجھے اچھا نہیں جانتی، فلاں ایسا سلوک کرتی ہے۔ میرے ساتھ وغیرہ وغیرہ۔ کوئی ایک آدھ ایسا واقعہ ہوگا جو آپ نے خود دیکھا یا سنا ہوگا ورنہ زیادہ تر ایک دوسرے سے شیئر کرتی ہیں یا اندازہ کرتی ہیں ایک دوسرے کے عمل سے یا Guess کیا تو وہ بھی حقیقت نہیں۔ شیئر کیا وہ بھی حقیقت نہیں۔ اس طرح اس الزام کا گناہ بھی سر آیا۔ اگر حقیقت بھی تھی تو آپ سے تو اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا ہی نہیں کہ آپ تبصرہ کریں یا اس کی بات کا جواب دیں۔ نہ آپ سے قبر، قیامت اور دنیا میں بھی پوچھا جانا ہے۔ لہذا آپ جتنا زبان کھولیں گی دوسرے کے بارے میں تو گناہ ہی نکلے گا۔ میری آپ کو نصیحت یہ ہے کہ اس عمل کو ترک کردیں۔ جس میں تھوڑا ہے یا پھر زیادہ ہے اور مشن میں کام کرنے والی بیٹیاں، بہنیں تو کلیتاً تائب ہوجائیں یہ زہر ہے جس سے موت واقع ہوجاتی ہے۔ جب بھی کسی کے بارے میں زبان کھولیں تو اس کی اچھائی بیان کریں اگر اس کی کوئی اچھائی معلوم نہیں تو چپ رہیں اور برائی کو زبان پر لانے سے گناہ ہی ہوگا۔ دیکھیں برائی کسی نے کی گناہ آپ نے مفت میں کمایا۔ اس کو تو اللہ گناہ دے گا یا معاف کردے گا۔ وہ تو اس کے اور اللہ کے مابین معاملہ ہے لیکن آپ نے جو تبصرہ کیا تو آپ تو مفت میں ہی ماری گئیں۔ لہذا ان باتوں سے اجتناب کریں کیونکہ اس سے اللہ اور اس کے رسول ناراض ہوتے ہیں اور اس سے برکت بھی اٹھ جاتی ہے۔ بولیں تو اچھا بولیں وگرنہ اپنی زبان سی لیں کیونکہ خاموش رہنے میں حکمت یہ ہے کہ کم از کم انسان گناہ سے بچ جاتا ہے۔

ماخوذ از ماہنامہ دختران اسلام، ستمبر 2016

تبصرہ