قرآنی علوم کے فروغ کیلئے منہاج القرآن ویمن لیگ کے ’الہدایہ پروجیکٹ‘ کا آغاز

منہاج القرآن ویمن لیگ نے خواتین میں قرآنی علوم کی تعلیم و فروغ کے لیے ’الہدایہ پروجیکٹ‘ کا آغاز کیا ہے۔ پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب الہدایہ ریجنل آفس ڈیفنس لاہور میں 10 اپریل 2017 کو منعقد ہوئی، جس کی صدارت مسز فضہ حسین قادری نے کی۔ تقریب میں سیاسیات، اقتصادیات، میڈیکل اور تعلیم سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے شرکت کی۔

تقریب کا آغاز تلاوت کلام مجید سے ہوا جس کی سعادت حافظہ ڈاکٹر سمعیہ نے حاصل کی۔ مریم سعید نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ہدیہ عقیدت پیش کیا۔ مسز فضہ حسین قادری نے الہدایہ پراجیکٹ کے ریجنل آفس کا افتتاح کیا۔ افنان بابر نے تقریب میں آنے والی خواتین کو خوش آمدید کہا اور استقبالی کلمات پیش کیے۔

محترمہ فضہ حسین قادری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے الہدایہ پروجیکٹ کی ٹیم اور اسکی مینجمنٹ کو مبارکباد ی۔ انہوں نے کہا کہ شدت پسندی کی بڑی وجہ قرآنی تعلیمات سے دوری ہے۔ ہماری بقا اور عافیت اسی کے ساتھ جڑے رہنے میں ہے۔ پرامن معاشرے کی تشکیل اور اسلامی روایات و اقدار کے فروغ کیلئے خواتین کی دینی تعلیم و تربیت پر توجہ مرکوز کرنا عصر حاضر کی ناگزیر ضرورت ہے۔ ان تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی ہدایت پر خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کیلئے جدید خطوط پر ’الہدایہ پروجیکٹ‘ کا آغاز کیا گیا ہے۔ پروجیکٹ کے ذریعے مختلف کیمپس، لیکچرز اور تربیتی سیشنز میں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کو قرآنی علوم کی تدریس کی جائے گی۔ فضہ حسین قادری نےاس موقع پر مختلف شعبہ ہا ئے زندگی سے آنے والی خواتین کو یہ پیغام دیا کہ آپ اپنی صلاحیت، قابلیت اور اہلیت کو اس پراجیکٹ میں شامل کرتے ہوئے قرآن پاک سے اپنی محبت کے اظہار کا حق ادا کریں۔

MWL launches “AL-Hidayah” project to promote Quranic learning

رکن صوبائی اسمبلی سعدیہ سہیل رانا نے ’الہدایہ پروجیکٹ‘ کے آغاز پر منہاج القرآن ویمن لیگ کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اصل خدمت اور عبادت دین کا علم سیکھنا اور سکھانا ہے، شاندار منصوبہ شروع کرنے پر ڈاکٹر طاہرالقادری اور انکا ادارہ منہاج القرآن لائق تحسین ہے۔

صدر منہاج القرآن ویمن لیگ فرح ناز نے الہدایہ پراجیکٹ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن تاریخ کے سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ سرزمینِ پاکستان پر خواتین کے لئے الہدایہ پراجیکٹ قرآن پاک کی تعلیم و تدریس کا اہم اور تاریخی منصوبہ ہے جو آنے والے وقت میں مسلم خواتین کی شناخت بنے گا۔ الہدایہ پراجیکٹ وہ تمام ٹولز اور طریقہ کار فراہم کرے گا جس سے قرآن مجید کے مطالب، معانی اور پیغام کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کی منفرد خصوصیات اس کا نصاب، طریق تعلیم، مخصوص شرکاء اور مستقبل میں جاری ہونے والے پراجیکٹس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الہدایہ پراجیکٹ کی ملٹی ڈائمینشنل ٹیم جو ریسرچ اسکالرز، ٹرینرز، گرافک ڈئزائنرز اور رائٹرز پر مشتمل ہے، اس پراجیکٹ کی کامیابی کی ضامن ہے۔

ڈاکٹر ثمر فاطمہ نے الہدایہ ٹیم کو اس کاوش پر مبارکباد دیتے ہو ئے کہا کہ ہماری بقا اور کامیابی قرآن پاک اور اسکی تعلیمات کے ساتھ جڑے رہنے میں ہی ہے۔ معاشرے میں الہدایہ جیسے منصوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

افنان بابر نے تقریب کی شرکاء سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ قرآنِ پاک جو اللہ رب العزت اور بندے میں تعلق کا واحد ذریعہ ہے، بدقسمتی سے آج ہم اس تعلق سے دوری اختیار کر چکے ہیں۔ ان نازک حالات میں الہدایہ پراجیکٹ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس پراجیکٹ کا مقصد قرآن کی تعلیمات، قرآن پاک سے محبت اور پڑھنے پڑھانے کا کلچر بنانا ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے قرآن پاک کی تعلیمات کو عام کرنے کیلئے اس پراجیکٹ کی ہر جہت پر اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا موقع ملا ہے۔

ڈاکٹر عالیہ تارڑ نے کہا کہ الہدایہ ٹیم پاکستانی معاشرے اور آنے والی نسلوں کی فلاح کیلئے میدان عمل میں نکلی ہے، ہم انکی کامیابی کیلئے دعاگو ہیں۔ نیکی اور فلاح کے اس کام میں ہمارا بھر پور تعاون اس ٹیم کے ساتھ ہو گا۔ بچیوں کو بامقصد تعلیم دینا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

لبنی مشتاق نے کہا کہ قرآن پاک سے محبت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ پڑھا جائے، عمل کیا جائے اور دوسروں کو اسکی محبت اور تعلیم کے ساتھ وابستہ کیا جائے۔

زینب ارشد نے کہا کہ اس دور پر فتن میں جہاں نوجوان نسل بہت ساری انتہا پسدانہ سرگرمیوں کا شکار ہو رہی ہے وہاں الہدایہ پراجیکٹ قرآن پاک کی تعلیمات کو عام کرنے اور معاشرے کی فلاح کیلئے ایک خوش آئندہ عمل ہے۔

کلثوم طفیل نے اپنےخیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک انسان کے ذہن میں ابھرنے والے ہر سوال کا جواب ہے۔ الہدایہ پراجیکٹ جس کی سب سے بڑی خوبی اس کا منفرد، پریکٹیکل اور سائنسی بنیادوں پر تیار کیا جانے والا نصاب ہے جو قرآن پا ک پڑھنے والوں کو خود اس کا ترجمہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔

تقریب سے نزہت، سروت گوہر، راشدہ اصغر ڈولہ، نادیہ باقر جاوا، مسرت شاہین، ڈاکٹر ثمرین، نورین، صائمہ زاہد، شاہدہ مغل، ثوبیہ جاوید نے اس پراجیکٹ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

تبصرہ