رمضان المبارک صفائے قلب و باطن کا اہم ذریعہ

تحریر: رداء ملک

اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا نائب تخلیق کیا اور تخلیق کا مقصد اپنی عبادت قرار دیا پھر عبادت کے مختلف طریقے رکھے تاکہ انسان کے قلب و باطن کو تزکیہ نصیب ہوتا رہے اس سلسلہ میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری لکھتے ہیں:

انسان کا مقصد تخلیق عبادت الٰہی ہے اور عبادت کے کئی طریق ہیں ان سب کا مقصود تقویٰ اور تزکیہ قلب و نفس ہے اس سے انسان کو نور باطن حا صل ہوتا ہے اور اگر عبادت بطور عادت کی جائے تو تزکیہ قلب سے جو نور حاصل ہوتا تھا اس کا حصول ممکن نہیں رہتا۔

قادری، 2009ء، روزہ اور اعتکاف، ص: 21

تزکیہ نفس کیا ہے؟

تزکیہ نفس اپنے من کی تمام آلائشوں اور کدورتوں سے پاک کر دینے کا کا نام ہے۔ منشائے ایزدی ہے نفس انسانی سے، ریا کاری اور منافقت، کبرو نخوت اور غرورحسدو کینہ اور بغض عناد جیسے اخلاق رذیلہ کا خاتمہ ہو جا ئے۔ دنیا کی محبت اور لالچ سے انسانی قلب پاک ہو جائے اور ان رذائل کی جگہ عجزو انکساری خشوع و خضوع نفع بخشی و فیض رسانی، فہم و ذکاء، جود وسخاء اور محبت الٰہی جیسے فضائل انسان کے قلب و باطن کو منور کریں اور انسان کا نفس ہر قسم کے رذائل کا انکار کرے اور ان سے بیگانگی محسوس کرے جب انسان کا قلب و باطن صاف ہو جا ئے تو اس کا زاویہ نگاہ بھی بدل جاتا ہے۔ تزکیہ قلب و باطن کے مختلف طریقے ہیں جن میں سے ایک رمضان المبارک میں محاسبہ نفس ہے۔

قادری، 2006ء، حقیقت تصوف، ص: 252

محاسبہ نفس

اپنے نفس کو ذہنی میلانات ونفسیانی خواہشات سے خود کو قابو میں رکھنا محاسبہ نفس کہلاتا ہے۔

قادری، 2003ء، فساد قلب اور اس کا علاج، ص: 39

رمضان میں انسان رضائے الہی کے حصول کے لئے سخت گرمی اور اور تپش کے باوجود بھوک و پیاس کوبرداشت کرتا ہے اور اوامر کو بجالانا ہے اور نواہی سے پرہیز کرنا ہے جس سے انسان کو نفس پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔ رمضان المبارک کاسارا ماہ باعث برکت ہے پھر اس میں لیلۃ القدر ہے جس کے بارے میں ہے۔

لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ.

القدر: 3

شب قدر (فضیلت و برکت اور اجر وثواب میں)ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

رمضان الکریم کو جو امتیازی شرف اور فضیلت حاصل ہے وہ کسی اورماہ کو حاصل نہیں اسی میں قرآن مجیدآسمان دنیاپر نازل ہوا چنانچہ مہینوں کی نسبت اس ماہ میں کیا جانے والا محاسبہ نفس، انسان کو اللہ کی خشیت اور محبت میں عروج پر لے جاتا ہے خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولات عبادت و ریاضت میں عام دنوں کی نسبت بہت اضافہ ہو جاتا اگر ہم اپنے نفس کی ترقی کے خواہاں ہیں کہ ہمارا نفس امارہ سے ترقی پاکر نفس مطمئنہ اور نفس راضیہ اور مرضیہ تک پہنچ جا ئے توضروری ہے کہ اس ماہ میں خوب ریاضت ومجاہدہ کریں اور اپنے نفس کی نفی کریں جو کہ درج ذیل ذرائع سے ممکن ہے۔

کثرت عبادت و ریاضت

عبادت و ریا ضت تزکیہ باطن کا لازمی عنصر ہے اگر زندگی اس سے خالی ہو تو انسان کبھی منزل مقصود کو نہیں پا سکتا اپنے معمولات میں عبادات کو شامل کرنا ہو گا جبکہ رمضان میں اس کا موقع بہت آسانی اور کثرت سے حاصل ہوتا ہے۔ رمضان میں نماز پنجگانہ کے علاوہ نماز تراویح، ذکر و اذکار، درود پاک روزمرہ کے مشاغل میں شامل ہونا چاہیے پھر لیلۃ القدر میں کیا جانے والا محاسبہ انسان کو اوج ثریا کی منزل تک لے جاتا ہے۔ ایک حدیث جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔

کان رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم اذادخل رمضان لغیرلونه وکثرت صلاته وابتهل فی الدعاء واستفق منه.

جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کارنگ مبارک متغیر ہو جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دُ عا کرتے اور اس کا خوف طاری رکھتے ۔

بیهقی، شعب الایمان، 3: 310، رقم الحدیث: 3625

ہمیں اسوہ رسالت ماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش نظر رکھ کر کامل دلجمعی سے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور خشوع و خضوع سے توبہ و استغفار کرتے رہنا چاہیے۔

کثرت تلاوت قرآن

ماہ رمضان میں کثرت سے تلاوت قرآن کرنا اور آیات قرآنی میں غور وفکر اور تدبر و تفکر کرنے سے اللہ کے قرب کی راہ کھلتی ہے۔ رمضان المبارک ایک بہتر ماحول میسر کرتا ہے۔ قرآن پاک پر اگر غور وفکر کرنا چھوڑ دیں تو یہ دل کی سختی کا موجب بنتا ہے جیسا کی آیت کریمہ سے واضح ہوتا ہے۔

أَفَلَایَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا.

محمد، 47: 24

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا انکے دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیں۔

یعنی قرآن کی تلاوت نہ کرنے سے انسان کا دل سخت ہو جاتا اور اپنی مشکلات کو قرآن کے ذریعے حل نہیں کر سکتا جبکہ قرآن حکمت سے بھرپور ہے۔رمضان میں کی جانے والی تلاوت نہ صرف کئی گناہ ثواب کو بڑھاتی ہے بلکہ تصفیہ باطن کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔

سحر و افطار کی برکتیں

رمضان میں تزکیہ قلب و باطن کا سب سے اچھا اور بڑا مفید موقع سحری و افطاری کے وقت آتا ہے جب انسان بھوک اور پیاس کو برداشت کرتے ہوئے اپنے پانی کا گلاس کسی اور کی طرف بڑھا دیتا ہے اور کھانے کی اچھی پلیٹ کسی اور کو دے دیتا ہے یہ وہ اصل مقام ہوتا ہے جہاں وہ اپنا محاسبہ کرتا ہے وہ چاہتا تو اپنی بھوک و پیاس کو ترجیح دے سکتا تھامگر اس سے اسکو وہ مقام نہ ملتا جو اسکو ترک کر دینے پر ملتا ہے اس طرح سحری کی برکت میں مزید اضافہ ہوتا ہے جو حدیث مبارکہ سے ماخوذ ہے۔

تسخروا فان السحور برکة.

مسلم، الصحیح کتاب الصیام، 2: 770، رقم: 1095

’’سحری کھایا کرو کیونکہ اس میں برکت ہے۔‘‘

جب انسان اپنی بھوک و پیاس سے پہلے کسی دوسرے کو ترجیح دے تو یہ برکت کا باعث بنتا ہے اور قلب کی صفائی کا باعث بھی بنتا ہے کیونکہ رمضان اپنے ساتھ بہت سی برکتوں کو لاتا ہے۔

قیام اللیل

رمضان المبارک میں صفائے قلب و باطن کا اہم ترین ذریعہ قیام اللیل ہے۔ رمضان میں کیا جانے والا قیام اللیل باقی مہینوں سے افضل ہوتا ہے۔ قیام اللیل چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی یہ تزکیہ نفس کی بہتری کا سبب بنتا ہے۔ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر عبادت کرنے والا شخص اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان المبارک میں قیام کرنے کی فضیلت کے بارے میں فرمایا:

’’جس نے ایمان و احتساب کی نیت سے رمضان المبارک کے روزے رکھے اور راتوں کو قیام کیا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جس دن وہ بطن مادرسے پیدا ہوتے وقت (گناہوں سے ) پاک تھا۔‘‘

نسائی، السنن، کتاب الصیام، باب ذکر اختلاف یحیی بن ابی بکر کثیر والنضر بن شیبان، 4: 158، رقم: 2208-2210

اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے اس ماہ میں کیا جانے والا مجاہدہ و ریاضت اور قیام اللیل انسان کو صفائے قلب کی نعمت سے سر شار کردیتا ہے اوراسے گناہوں کی پاکیزگی عطا ہوتی ہے۔رمضان ایسا ماہ ہے کہ اس میں قیام اللیل کے کثیر مواقع فراہم ہوتے ہیں لیلۃالقدر کی رات جس میں عبادت کرنے کا ثواب باقی ماہ کی نسبتاََ زیادہ ہوتا ہے۔

خشیت الٰہی

خشیت الٰہی صفائے قلب کی وہ اہم سیٹرھی ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ خشیت الٰہی اور محاسبہ نفس ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں کیونکہ اگر خشیت الٰہی نہ ہو تو محاسبہ نفس اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔خشیت الٰہی اطاعت الٰہی کا تقاضا کرتی ہے۔

إِنَّ اللّهَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم.

التوبة، 9: 111

بیشک اﷲ نے اہلِ ایمان سے ان کی جانیں اور ان کے مال، ان کے لئے جنت کے عوض خرید لئے ہیں۔

اس آیت مبارکہ سے عام طور پر یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ اس میں اللہ کی راہ میں جان و مال قربان کرنے کا ذکر ہے یعنی جہاد بالنفس اور جہاد بالمال کا حُکم ثابت ہوتا ہے۔ آیت کا یہ مفہوم بالکل بجا اور درست ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں اطاعت الٰہی کا ایک لطیف اشارہ موجود ہے اور وہ کمال اطاعت الٰہی کا مقصود ہے۔ اللہ کے خوف سے انسان کو دو جنتوں کی بشارت نصیب ہوتی ہے۔ سورہ رحمٰن کی آیت نمبر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ

الرحمن، 55: 46

کیونکہ جو شخص ہر وقت خشیت الٰہی میں مبتلا رہے وہ ہر اس عمل سے باز آجاتا ہے جو خدا کو پسند نہیں یعنی وہ وہی کام کرتا ہے جو اللہ کی رضا کے لیے ہوتا ہے۔ لوجہ اللہ کا مرتکب بن جاتا ہے۔رمضان اسکا نہایت عمدہ موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

صدقات وخیرات کے ذریعے محاسبہ نفس

رمضان کے علاوہ مہینوں میں کیے جانے والے صدقات وخیرات کی برکات اتنی نہیں جتنی اس ماہ کی ہوتی ہیں۔ اس ماہ میں جب انسان روزہ رکھتا ہے تو وہ دوسروں کی بھوک و پیاس سے ان کی تکلیف سے آشنا ہوتا ہے جو بات تجربات سے حاصل ہوتی ہے وہ باتیں سننے سے حاصل نہیں ہوتی اس لیے اپنی خواہشات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دوسروں کی ضروریات کو پورا کرتا ہے تو اس سے اسے نہ صرف ثواب اور برکت نصیب ہوتی ہے بلکہ تسکین قلب کی نعمت سے بھی آشنا ہوتا ہے لہٰذا اس ماہ اللہ تعالیٰ نے صاحب استطاعت کے لیے زکوٰۃ کو فرض کر دیا اور فطرانہ اور عطیہ کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا۔ انسان کو چاہیے کہ اس ماہ جس قدر ممکن ہو سکے اپنے مال کا صدقہ و خیرات کرے۔

اعتکاف محاسبہ نفس کا ذریعہ

آخری عشرہ میںاعتکاف کرنا محاسبہ نفس میں اہم کردار ادا کرتا ہے اعتکاف انفرادی بھی ہو سکتا ہے اور اجتمائی بھی۔ اعتکاف اجتماعی صفائے قلب کا بہترین ذریعہ ہے کیونکہ اس میں شک ہی نہیں کہ کوئی بھی عمل ر یاضت و مجاہدہ کے بغیر کسی منزل تک نہیں پہنچ سکتا ہے۔ تحریک منہاج القرآن کا ایک امتیازی وصف یہ بھی ہے کہ اس نے فرد کے در قلب پر دستک دی ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہار گانہ فرائض نبوت، تلاوت قرآن، تزکیہ نفوس تعلیم کتاب و حکمت کی پیروی کرتے ہوئے ہر محاذ پر جدو جہد کی ہے۔ تحریک منہاج القرآن رمضان المبارک کے آخری عشرہ اعتکاف میں روحوں کا زنگ اُتارنے اور دلوں کا میل کچیل دھونے کاانتظام کرتا ہے۔ جب انسان شیخ و مرشد کی صحبت میںعبادت و ریاضت اور تلاوتِ قرآن، ذکرو اذکار بجا لانا ہے اوراپنی خواہشات کو نظرانداز کر کے دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دیتا ہے تو اس سے نفس امارہ سے چھٹکارا حاصل ہوتا ہے ہے اور قلب پاکیزہ ہوتا ہے اور قلب کی پاکیزگی ہی ایمان کی نشانی ہے۔

رمضان میں تزکیہ نفس کی اہمیت اس لیے بتانا مقصود ہے کہ اس سے انسان نہ صرف اپنی بلکہ معاشرے کی اصلاح کا بھی سبب بن سکتا ہے جب انسان قلت کلام، قلت طعام اور قلت منام پر عمل پیرا ہوتا ہے تو وہ اپنے نفس کو دُنیا کی بہت سی آلائشوں سے پاک کر لیتا ہے۔ رمضان میں تزکیہ نفس کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس ماہ دُنیا کے سب شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ لیا جاتا ہے اور عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اس ماہ میں کی جانے والی عبادت و ریا ضت انسان کے دل میں جلد اثر پذیر ہوتی ہے اور چونکہ انسان فطری طور پر جلد باز ہے اس لیے وہ اعلیٰ سے اعلیٰ مقام جلد پانے کی تمنا کرتا ہے۔ اس کی اس خواہش کے پورا کرنے کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اسے لیلۃ القدر جیسی عظیم ترین نعمت عطا فرمائی جس میں کی جانے والی عبادت ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ لہٰذا انسان کو چاہیے اگر وہ اس ماہ کی نعمتوںاور بر کتوں کو سمیٹنا چاہتا ہے تو اس ماہ میں نہ صرف عبادت کرے بلکہ تزکیہ نفس کے حصول کو بہر طور ممکن بنائے۔

کسی صوفی کا قول ہے:

’’ اپنے نفس کو دیکھنا اور اپنے افعال پر اعتمادکرنا سب سے بڑی مصیبت ہے لہذا گر انسان اپنے نفس کے سپرد ہوجائے تو یہ انتہائی بدبختی ہے اور انتہائی بد بختی میں دشمن خوش ہوتا ہے۔‘‘

محمد حسن، خزینه معارف، 226، 1998ء

حضرت حارثہ فرماتے ہیں:

’’میں نے اپنے نفس کو دینا سے کنارہ کش کیا۔ دن کو پیاسا اور رات بھر بیدار رہا اور اب یہ حالت ہے گویا اللہ کے عرش کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہا ہوں۔‘‘

محمد حسن، خزینه معارف، 231، 1998ء

حکیمانہ قول:

’’ایک دانا کا قول ہے جس انسان پر اس کا نفس غالب آجاتا ہے وہ شہوت کا قیدی ہوجاتا ہے وہ بے ہودگی کا تابع ہوجاتا ہے اور اسکا دل تمام فوائد سے محروم ہوجاتا ہے جس کسی نے اپنی زمین کو شہوات سے سیراب کیا اس نے اپنے دل میں ندامت کی کاشت کی۔‘‘

عالم فقری، تزکیه قلوب، 440، 2009ء

ماخوذ از ماہنامہ دخترانِ اسلام، مئی 2018

تبصرہ