ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ

سعدیہ کریم

تعارف:

ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کا اصل نام رملہ تھا۔ ام حبیبہ ان کی کنیت تھی وہ حضرت ابو سفیانؓ کی بیٹی تھیں جو کئی سال تک مسلمانوں کے دشمن رہے اور جنگ و جدل میں مصروف رہے بالآخر فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے۔ ابو سفیان قریش کے نامور سردار تھے۔ ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کی والدہ کا نام صفیہ بنت ابو العاص بن امیہ تھا۔ وہ حضرت عثمان غنیؓ کی پھوپھی تھیں۔ حضرت ام حبیبہ کے بھائی حضرت امیر معاویہؓ کا شمار کاتبین وحی میں ہوتا ہے۔

پیدائش:

حضرت ام حبیبہؓ، رسول اللہ ﷺ  کی بعثت سے 17 برس پہلے پیدا ہوئیں۔

(الاصابه، جلد: 8، ص: 84)

نسب:

آپ کا نسب یوں ہے۔ رملہ بنت ابی سفیان صخر بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبدمناف الاموئیہ۔

(سیر اعلام النبلاء، ج: 2، ص: 912)

نکاح اول:

حضرت ام حبیبہ کا پہلا نکاح عبداللہ بن جحشؓ سے ہوا۔ (یہ ام المومنین حضرت زینب بنت جحشؓ کے بھائی تھے)۔ اوائل اسلام میں ہی مسلمان ہوگئے تھے اور ان کی بیوی (رملہ) ام حبیبہ) نے بھی اسلام قبول کرلیا تھا جبکہ ان کے والد ابو سفیان ابھی کافر ہی تھے اور مسلمانوں کے بدترین دشمن تھے۔ ان کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے وہ اپنے شوہر سمیت دیگر مسلمانوں کے ہمراہ حبشہ کی طرف ہجرت کرگئیں۔ ہجرت کے وقت وہ حاملہ تھیں۔ حبشہ میں ان کے ہاں ایک بیٹی کی ولادت ہوئی جس کا نام حبیبہ رکھا گیا، اسی بیٹی کی نسبت سے آپ کی کنیت ام حبیبہ ہے۔ حبشہ میں قیام کے دوران ان کا شوہر مرتد ہوکر عیسائی بن گیا۔ اس کے عیسائی بننے سے پہلے حضرت ام حبیبہؓ نے خواب میں اسے نہایت بری اور بگڑی ہوئی شکل میں دیکھا۔ اگلے ہی دن ان کو پتہ چل گیا کہ وہ عیسائی ہوگیا ہے۔ انہوں نے اپنے شوہر سے اپنا خواب ذکر کیا اور اسے دوبارہ اسلام کی دعوت دی مگر اس نے انکار کردیا اور شراب نوشی میں مصروف ہوگیا اسی حالت کفر میں حبشہ میں وہ مرگیا۔

(المستدرک، ج: 4، ص: 20)

حریم نبوت میں داخلہ:

رسول اللہ ﷺ  کے ساتھ اپنے نکاح کا واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت ام حبیبہ فرماتی ہیں کہ جب میرے شوہر عبیداللہ بن جحش کا انتقال ہوا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی مجھے کہہ رہا ہے۔ اے ام المومنین میں خواب میں ہی چونک گئی پھر اس خواب کی تعبیر میں نے یہ سمجھی کہ ان شاء اللہ مجھے رسول اللہ ﷺ  کی زوجیت نصیب ہوگی۔

اس کے بعد جب میری عدت مکمل ہوئی تو شاہ حبشہ نجاشی کا ایک قاصد میرے گھر آیا وہ ایک باندی تھی جس کا نام (ابرہہ) تھا اس نے مجھے کہا کہ بادشاہ سلامت نے تمہارے لیے پیغام بجھوایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ  کا مکتوب آیا ہے کہ میں تمہارا نکاح ان سے کردوں۔ یہ سنتے ہی حضرت ام حبیبہ نے پیغام لانے والی باندی کو دعا دی اور اسی خوشی میں اپنے کنگن، پازیب اور انگوٹھی اتار کر اسے انعام کی صورت میں دے دی۔ بادشاہ کے پیغام کے مطابق انہوں نے اپنے رشتہ دار خالد بن سعید کو اپنا وکیل مقرر کیا۔ شام کو نجاشی نے حضرت جعفر بن ابی طالبؓ سمیت حبشہ میں موجود تمام مسلمانوں کو بلوایا اور ان کی موجودگی میں توحید و رسالت کے اقرار پر مشتمل خطبہ پڑھا اور کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ  نے پیغام بھیجا ہے کہ میں ام حبیبہ بنت ابی سفیان کے ساتھ ان کا نکاح کرادوں تو میں نے ان کے حکم کے مطابق یہ نکاح کردیا ہے اور اس کا مہر چار سو دینار مقرر کیا ہے جو میں خود ادا کررہا ہوں۔

حضرت ام حبیبہؓ کے وکیل نے بھی خطبہ پڑھ کر اعلان کیا کہ میں نے ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ  سے کردیا ہے اللہ تعالیٰ اس نکاح میں برکت عطا فرمائے۔ اس کے بعد نجاشی نے کہا کہ انبیاء کرام کی یہ سنت ہے کہ ان کے نکاح کے بعد ولیمہ کا کھانا کھلایا جاتا ہے اور سب کے لیے کھانے کا انتظام کیا گیا یوں حضور اکرم ﷺ  کا نکاح اور ولیمہ نجاشی نے کیا۔ نکاح سے اگلے دن نجاشی نے حضرت ام حبیبہؓ کو مختلف قسم کے عطریات اور جہیز کا سامان دے کر عزت و احترام کے ساتھ حضرت شرخیل بن حسنہؓ کے ہمراہ مدینہ طیبہ روانہ کیا۔ سردار قریش ابوسفیان کو جب اس نکاح کی خبر پہنچی تو اسے بہت مایوسی ہوئی اور حضور اکرم ﷺ  کے بارے میں کہنے لگا کہ وہ جواں مرد ہیں، ان کی ناک نہیں کاٹی جاسکتی۔یعنی حضرت محمد ﷺ  اونچی شان و اعلیٰ عزت کے مالک ہیں، ہم ان سے دشمنی کرکے ان کا نام نہیں مٹاسکتے۔ گویا اس نے دل ہی دل میں اپنی شکست تسلیم کرلی۔ نکاح کے وقت ام المومنین کی عمر 30 سال تھی اور یہ نکاح 7 ہجری میں ہوا تھا۔ (طبقات ابن سعد)

مسند احمد کی روایت کے مطابق سیدہ کی عمر 36۔ 37 سال تھی۔

وفات:

ایک راجح قول کے مطابق آپ سلام اللہ علیہا کا انتقال 44 ہجری کو مدینہ طیبہ میں ہوا۔ وہ حضرت امیر معاویہؓ کا زمانہ خلافت تھا۔ مروان نے نماز جنازہ پڑھائی آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

(الاستیعاب، ج: 2، ص: 750)

اولاد:

عبیداللہ بن جحش سے ان کے دو بچے تھے۔ عبداللہ اور حبیبہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ  کی آغوش میں تربیت پائی۔ رسول اللہ ﷺ  سے ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔

حضرت ام حبیبہؓ کی سیرت مطہرہ:

حضرت ام حبیبہؓ کو سیرت و صورت کی خوبصورتی عطا ہوئی تھی خود ان کے والد کا بیان ہے کہ

’’میرے نزدیک عرب کی حسین تر اور جمیل تر عورت ام حبیبہ ہیں۔‘‘

انہیں اسلام اور پیغمبر اسلام سے بہت محبت تھی اسی وجہ سے شوہر کے مرتد ہوجانے کے باوجود وہ اسلام پر ثابت قدم رہیں۔

رسول اللہ ﷺ  سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ ان کا باپ ان سے ملنے آیا تو انہوں نے رسول ﷺ  خدا کے بستر کو لپیٹ دیا اور اپنے باپ کو اس پر بیٹھنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے فرمایا کہ

’’یہ سرکار دو عالم کا بستر ہے اس پر مشرک نہیں بیٹھ سکتا۔‘‘

ابوسفیان غصے سے بولا کہ تو شر میں مبتلا ہوگئی ہے بیٹی نے جواب دیا کہ نہیں میں تو کفر کی ظلمت سے نکل کر اسلام کے نور اور ہدایت کی روشنی میں داخل ہوچکی ہوں۔ (طبقات ابن سعد)

آپؓ رسول اللہ ﷺ  کی سنت پر نہایت شدت سے عمل کرتی تھیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتی تھیں۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ  کو یہ فرماتے سنا کہ جو شخص ہر روز بارہ رکعات پڑھ لے جو نفل کے زمرے میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنادیتا ہے۔

حضرت ام حبیبہ نے اپنی پوری زندگی پھر ان بارہ رکعات کو کبھی نہیں چھوڑا۔ (صحیح مسلم)

اسی طرح جب ان کے والد کی وفات ہوئی تو انہوں نے صرف تین دن تک سوگ کیا پھر خوشبو منگواکر استعمال کی اور فرمایا کہ مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں تھی صرف رسول اللہ ﷺ  کے فرمان پر عمل کیا ہے جس میں آپ ﷺ  نے فرمایا تھا کہ

’’کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر سوگ کرے تین دن سے زیادہ، سوائے شوہر کے کہ اس پر چار ماہ اور دس دن تک سوگ کرسکتی ہے۔‘‘ (صحیح البخاری)

اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ام حبیبہؓ کو رسول اللہ ﷺ  سے جو محبت تھی وہ باپ کی محبت پر حاوی تھی۔

ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ کو حقوق العباد کی ادائیگی کی بھی بہت فکر رہتی تھی۔ انہوں نے اپنی وفات سے پہلے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو اپنے پاس بلایا اور ان سے کہا کہ میرے اور آپ کے درمیان سوکنوں والا تعلق تھا۔ اس بارے میں جو بھی کوتاہی ہوئی ہو اللہ تعالیٰ اس پر ہم سے درگزر فرمائے اور آپ بھی مجھے معاف فرمادیں۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ میری طرف سے بھی سب معاف ہے اللہ تعالیٰ بھی آپ سے معافی و درگزر والا معاملہ فرمائے۔ یہ سن کر حضرت ام حبیبہؓ نے فرمایا کہ عائشہ تم نے مجھے خوش کیا اللہ تعالیٰ تمہیں خوش رکھے۔ اس کے بعد حضرت ام سلمہؓ کو بلایا اور ان کے ساتھ بھی یہی گفتگو فرمائی۔ (طبقات الکبریٰ)

ام المومنین حضرت ام حبیبہؓ فطرتاً نہایت نیک مزاج تھیں۔ سورہ الممتحنہ کی آیت نمبر7 کے بارے میں مفسرین کرام نے لکھا ہے کہ وہ ان کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

عَسَی اللهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ.

(الممتحنة، 60: 7)

’’اور اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ تم میں اور ان لوگوں میں سے جن سے تمہاری عداوت ہے، دوستی کردے۔‘‘

سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب سرکار دو عالم ﷺ  کا حضرت ام حبیبہؓ سے نکاح ہوا اس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔

(طبقات ابن سعد، ج: 8، ص: 99)

حضرت ام حبیبہؓ سے 65 روایات منقول ہیں انہوں نے اپنی ساری زندگی اتباع و محبت رسول ﷺ  میں بسر فرمائی ان سے حدیث روایت کرنے والے بہت سے لوگ ہیں جن میں ان کی بیٹی حبیبہ، معاویہ اور عتبہ، عبداللہ بن عتبہ، ابو سفیان بن سعید ثقفی، سالم بن سواد، ابوالجراح، صفیہ بنت شیبہ، زینب بن ام سلمہؓ، عروہ بن زبیرؓ، ابوصالح السمان اور شہر بن حوشب شامل ہیں۔

رسول اللہ ﷺ  کے ساتھ حضرت ام حبیبہؓ کا نکاح مسلمانوں کے لیے بہت سے سیاسی و معاشرتی فوائد کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ دشمنان اسلام کی مخالفت کی شدت میں کمی آگئی اس نکاح کی برکت سے ابوسفیان حلقہ بگوش اسلام ہوگیا اور نتیجتاً لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہونے لگے۔

ماخوذ از ماہنامہ دخترانِ اسلام، جولائی 2021ء

تبصرہ