نشست میں چیئرمین سپریم کونسل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری بھی شریک تھے

پرتگال: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے لزبن کے مقامی ہوٹل میں منہاج القرآن ویمن لیگ پرتگال کی ذمہ داران کے لیے منعقدہ تربیتی نشست میں شرکت اور خصوصی خطاب کیا۔ نشست سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ نے ماں کے عظیم مقام اور اس کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ انسان کی زندگی کا آغاز ماں کے پیٹ سے ہوتا ہے، جہاں بچہ نو ماہ تک ماں کے وجود کا حصہ رہتا ہے۔ اس دوران ماں کی جسمانی اور ذہنی کیفیت براہِ راست بچے کی نشوونما اور شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سائنسی تحقیقات بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہیں کہ ماں کی خوشی، سکون اور ذہنی حالت بچے کے مزاج اور مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام نے ماں کے مقام کو بے حد بلند رکھا ہے، یہاں تک کہ “ماں کے قدموں تلے جنت ہے” کا تصور دراصل اس عظیم ذمہ داری اور قربانی کی عکاسی کرتا ہے جو ماں اپنے بچے کی پرورش میں ادا کرتی ہے۔ ماں نہ صرف بچے کو جنم دیتی ہے بلکہ اس کی ابتدائی تربیت، عادات اور شخصیت کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔ انہوں نے والد کے کردار کو بھی نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی متوازن شخصیت کی تشکیل کے لیے باپ کی فعال شرکت ضروری ہے۔ اگر باپ بچوں کو وقت دے، ان کے ساتھ محبت اور شفقت کا برتاؤ کرے اور ان کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کرے تو بچے کی شخصیت زیادہ پُراعتماد اور متوازن بنتی ہے۔ نشست میں بچوں کی تربیت کے مختلف مراحل پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی، خصوصاً پیدائش سے لے کر ابتدائی پانچ سال کو نہایت حساس قرار دیا گیا۔ اس دوران بچے کے جذبات، عادات اور رویے تیزی سے تشکیل پاتے ہیں، اس لیے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ محبت، توجہ اور مثبت ماحول فراہم کریں۔ شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ نے زور دیا کہ بچوں کی تربیت میں سختی، بدزبانی، غصہ اور گالی گلوچ جیسے رویے نہایت نقصان دہ ہیں۔ اسلام ہمیں حسنِ اخلاق، نرمی اور محبت کا درس دیتا ہے، اور یہی اصول بچوں کی تربیت میں اختیار کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ میاں بیوی کے باہمی تعلقات بچوں کی شخصیت سازی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر گھر کا ماحول محبت، احترام اور سکون پر مبنی ہو تو بچے مثبت شخصیت کے حامل بنتے ہیں، جبکہ جھگڑے اور بے ادبی بچوں پر منفی اثرات چھوڑتے ہیں۔ اختلافِ رائے کو فطری قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ اسے حکمت، صبر اور مثبت انداز میں حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دین کو صرف ظاہری عبادات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے روزمرہ زندگی، گفتگو، رویے اور اخلاق کا حصہ بنانے کی تلقین کی گئی۔ اس ضمن میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اس قول کا حوالہ دیا گیا کہ “حضور نبی اکرم ﷺ کا اخلاق قرآن تھا”، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دین کا اصل جوہر عملی زندگی میں ظاہر ہونا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچوں کے سوالات کو دبایا نہ جائے بلکہ انہیں کھل کر سوال کرنے کی ترغیب دی جائے۔ بچوں کی جستجو کو سراہتے ہوئے والدین کو ہدایت دی گئی کہ وہ صبر اور محبت کے ساتھ ان کے سوالات کے جوابات دیں تاکہ بچے دین کو سمجھ کر اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ خصوصی طور پر خواتین (ماؤں) کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اپنی ذات میں دینی شعور پیدا کریں، اپنے کردار اور عمل کو بہتر بنائیں، اور محبت و حکمت کے ساتھ بچوں کی تربیت کریں۔ کیونکہ ماں ہی وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں سے بچے کی شخصیت تشکیل پاتی ہے۔
آخر میں شرکاء کو تلقین کی گئی کہ دین کو اپنی زندگی، گھر کے ماحول اور خاندانی نظام کا حصہ بنائیں، صبر و حکمت کو اپنائیں، اور بچوں کی تربیت کو محبت، سمجھ اور مثبت انداز کے ساتھ انجام دیں تاکہ آنے والی نسلیں ایک مضبوط، متوازن اور حقیقی اسلامی کردار کے ساتھ پروان چڑھ سکیں۔
تقریب میں صدر منہاج یورپین کونسل بلال اُپل، جنرل سیکرٹری منہاج یورپین کونسل حسن بوستان، سرپرست منہاج القرآن انٹرنیشنل پرتگال محمد صغیر، صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پرتگال کاشف نذیر، چیف کو آرڈینیٹر منہاج القرآن پرتگال عمر شیخ، ڈاکٹر سہیل احمد، ڈائریکٹر منہاج ویمن لیگ پرتگال سمیرا اسلم، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، منہاج القرآن ویمن لیگ پرتگال ثمرہ قاسم اور میڈیا کوآرڈینیٹر منہاج القرآن ویمن لیگ حفظہ سید سمیت کارکنان بڑی تعداد مین شریک تھیں۔












تبصرہ