
شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ نے اخلاقی و روحانی تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح قرآن مجید کے معانی و معارف کی کوئی حد نہیں اسی طرح حدیثِ نبوی بھی ایک بحرِ بیکراں ہے۔
انہوں نے حدیثِ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی روشنی میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلہ رحمی کرتے ہیں۔ صلۂ رحمی کے لسانی، سماجی، اخلاقی، نفسیاتی اور عملی پہلوؤں کے علاوہ اس کے روحانی اور باطنی معانی بھی ہیں۔ صلۂ رحمی کا مطلب یہ ہے کہ انسان نہ صرف خونی رشتوں کو مضبوط کرے بلکہ معاشرے میں محبت اور تعلقات کو بھی مضبوط بنائے۔
حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کا کمال یہ ہے کہ آپ نہ صرف لوگوں کے درمیان ظاہری تعلقات کو جوڑتے ہیں بلکہ انسان کے باطن اور اندرونی دنیا کو بھی یکجا کر دیتے ہیں۔ آپ ﷺ کی نگاہِ نبوت انسان کے بکھرے ہوئے باطن کو بھی ایک مرکز پر جمع کر دیتی ہے۔حقیقی صلۂ رحمی یہ ہے کہ انسان کے اندر موجود تمام قوتیں، رجحانات اور خواہشات ایک مرکز پر جمع ہو جائیں اور وہ مرکز اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ جب انسان کا دل اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے اور عقل، دل اور نفس سب اسی مقصد کے تابع ہو جائیں تو انسان کے اندر وحدت پیدا ہو جاتی ہے۔









تبصرہ