عالمی میلاد کانفرنس 2011ء

تحریک منہاج القرآن کی 27 ویں سالانہ اور عالم اسلام کی سب سے بڑی عالمی میلاد کانفرنس  11 اور 12 ربیع الاول کی درمیانی شب (بمطابق 15 فروری 2011ء) مینار پاکستان لاہور اور رامفورڈ لندن میں مشترکہ طور پر منعقد ہوئی، جس میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے لندن سے براہ راست خصوصی خطاب کیا۔ یہ کانفرنس تحریک منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے صدر صاحبزادہ حسن محی الدین قادری کی زیرنگرانی منعقد ہوئی۔

کانفرنس کے مہمانان گرامی میں سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد، پیر سید خلیل الرحمان چشتی (آستانہ عالیہ چشتیہ آباد، کامونکی)، امیر تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل صاحبزادہ فیض الرحمن درانی، علامہ شہزاد احمد مجددی (سربراہ دار الاخلاص، لاہور)، حضرت علامہ سید علی غضنفر کراروی (سیکرٹری جنرل تحریک علماء پاکستان)، پیر سید جمیل الرحمٰن چشتی (آستانہ عالیہ چشتیہ آباد، کامونکی)، ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، نائب ناظم اعلیٰ دعوت و تربیت تحریک منہاج القرآن علامہ رانا محمد ادریس قادری، ناظم علماء کونسل سید فرحت حسین شاہ، صدر علماء کونسل پنجاب علامہ امداد اللہ خان، علامہ محمد عثمان سیالوی، علامہ میر آصف اکبر، علامہ محمد حسین آزاد، ڈاکٹر علی اکبر الازہری، سید مشرف علی شاہ شامل تھے۔ جبکہ لندن میں امیر منہاج القرآن برطانیہ ظہور احمد نیازی، حاجی محمد اسلم، علامہ صادق قریشی، محمد اشتیاق قادری، ڈاکٹر زاہد اقبال، عیسائی راہنماء مطلوب بارنباس، فادر ڈینس للی، اہل تشیع راہنما ڈاکٹر محمد نقوی، امام عاصم، مولانا عبدالقادر، بنگلہ دیش سے مفتی مجاہدالدین سمیت سینکڑوں سیاسی، سماجی اور مذہبی راہنما معزز مہمانوں میں شامل تھے۔

کانفرنس میں ملک بھر سے علماء و مشائخ عظام کی کثیر تعداد نے شرکت کی ان کیلئے VIP انکلوژر بنایا گیا تھا۔ مینار پاکستان کے سبزہ زار میں ہر طرف انسانی سروں کی فصل اگی ہوئی تھی، خواتین کیلئے پنڈال علیحدہ بنایا گیا تھا۔ پنڈال کو رنگ برنگی جھنڈیوں سے مزین کیا گیا تھا۔ وقفے وقفے سے کبوتر آزاد کئے جاتے رہے۔ پنجاب پولیس کی نفری کے علاوہ مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ اور منہاج القرآن یوتھ لیگ کے 5000 نوجوان سیکیورٹی پر مامور تھے۔ کانفرنس کے شرکاء نے میلاد کی خوشی میں اپنے ہاتھوں میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کے حوالے سے دل میں اسم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جھنڈیاں پکڑ رکھی تھیں، جن کو لہرانے سے پنڈال کی خوبصورتی کو چار چاند لگ رہے تھے۔ انٹرنیٹ اور ARY News کے ذریعے عالمی میلاد کانفرنس پوری دنیا میں براہ راست دیکھی گئی۔ منہاج انٹرنیٹ بیورو اور منہاج پروڈکشنز کی ٹیم نے کانفرنس کو براہ راست نشر کرنے کے لیے انتہائی اچھے انتظامات کر رکھے تھے۔ کانفرنس کی کارروائی جیو نیوز، دنیا نیوز، ایکسپریس نیوز، سٹی 42 اور دیگر ٹی وی چینلز نے براہ راست نشر کی۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے مینار پاکستان پر ہونے والی عالم اسلام کی سب سے بڑی 27ویں سالانہ عالمی میلاد کانفرنس میں شریک لاکھوں عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب و تعظیم مسلمان کا ایمان ہے اور ان کی ذات سے والہانہ محبت کے اظہار کیلئے ربیع الاول کا مہینہ پوری امت مسلمہ کیلئے انتہائی اہمیت اور برکت کا حامل ہے۔ مینار پاکستان کا وسیع گراؤنڈ 27سال سے مسلمانوں کی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ محبت کا گواہ بنتا آ رہا ہے۔

شیخ الاسلام نے کہا ہے کہ امت مسلمہ اگر مصائب و مشکلات کے بھنور سے نکلنا چاہتی ہے تو اپنی نسبت و محبت کا مرکز و محور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کو بنا لے کیونکہ ایمان کی آخری منزل مدینہ میں ہے۔ ایمان نسبت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانام ہے۔ جس جانب توجہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو گی، ایمان کا رخ بھی ادھر ہی ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے دوری انتہا پسندی، دہشت گردی، فساد اور نفرت کو ہوا دینے کا سبب ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں اسلام کے نام پر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والے جان لیں کہ بے گناہوں کا خون کرنے والے دین اسلام کی اصل تعلیمات کے نہ صرف باغی ہیں بلکہ فسادی ہیں، جو عالمی امن کی تباہی کے ذمہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ اسلام کی بدنامی کا سبب بھی بن رہے ہیں۔

ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے میلاد اور مدینہ سے محبت کے موضوع پر اپنے خطاب میں امت مسلمہ کو باور کروایا کہ امت مسلمہ کے لیے مرکز عبادت مکہ ہے، جبکہ مرکز محبت مدینہ ہے۔ اور یاد کرو اس زمانے کو جب اسلام سکڑ کر مدینہ تک رہ جائے گا، جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر اسلام کی جائے پناہ مدینہ ہے تو ہمارے ایمانوں کی حفاظت کا مقام مدینہ اور مدنی تاجدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کیونکر نہیں ہو سکتی۔ شیخ الاسلام نے نام نہاد جہاد کے نام پر فتنہ و شر کو فروغ دینے والے طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ فساد پھیلانے والا اسلحہ پھینک کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و الفت کا اسلحہ اٹھا لیں اور دنیا میں امن و محبت کا پیغام عام کر کے دنیا کو فساد سے نکال کر پیغام میلاد کو عام کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو مبارکباد دی، جو اس زمانے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام امن و محبت عام کریں، جب دنیا و عالم انسانیت میں فساد عام ہو جائے اور انتہا پسندی اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہو۔ انہوں نے کہا کہ آدم علیہ السلام کے زمانے سے لے کر آج تک اللہ رب العزت اور تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر اکٹھا ہو رہا ہے، لیکن اب مخصوص سوچ کے تحت ان دونوں اذکار کو الگ الگ کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے قرآن و احادیث کے حوالوں کی روشنی میں بتایا کہ کیسے شب میلاد کا درجہ شب قدر سے افضل ہے کیونکہ شب قدر کو جاگنا اور عبادت کرنا ہماری ذات کی مغفرت ہے، جبکہ شب میلاد منانا اور عبادت کرنا محبوب خدا کو راضی کرنے کی کوشش ہے اور یہ محبت کا دستور ہے کہ محب ہمیشہ محبوب کی رضا میں خوش اور راضی ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیلۃ القدر امت مسلمہ کے لیے نفع کا سبب ہے جبکہ لیلۃ المیلاد پوری کائنات کے لیے نفع کاسبب ہے۔

تحریک منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے صدر صاحبزادہ حسن محی الدین قادری نے میلاد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محبت اور ادب ایمان کی متاع ہے۔ آج داخلی اور خارجی قیام امن کیلئے محنت کی ضرورت ہے۔ من کی دنیا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے سیراب کرنا ہو گا۔ نفسانی خواہشات کو ختم کر کے باطن کو تقویٰ، طہارت، توحید الٰہی اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجالا کر لیا جائے تو امت کا ہر فرد معاشرے میں امن و سلامتی بکھیرنے والا بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مخلوق آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میلاد منانے کا حق ادا نہیں کر سکتی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میلاد خود اللہ نے منایا ہے۔ اس لئے ہمیں اپنی تمام خوشیوں سے بڑھ کر آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی منانی چاہیے۔

تحریک منہاج القرآن کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے کہا کہ سال 2010ء کے دوران گوشہ درود اور حلقہ ہائے درود میں ایک ارب درود و سلام پڑھا گیا، جو آج کی بابرکت رات میں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن دنیا کے پانچ براعظموں میں اسلام کا پیغام امن و محبت عام کر رہی ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے دہشت گردی کے خلاف تاریخی فتویٰ دے کر امت مسلمہ کے اسکالرز پر واجب قرض ادا کر دیا ہے۔ اس سے رہنمائی لے کر دہشت گردی کو جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک منہاج القرآن فکری و نظریاتی تحریک ہے، جو اسلام کی حقیقی روح کے مطابق تجدید دین کا فریضہ انجام دے رہی ہے اور پوری دنیا میں اس کے پیغام کو قبولیت مل رہی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ پاکستانی معاشرہ مذہبی اور سیکولر انتہا پسندی کے جہنم میں جل رہا ہے۔ حضور کی محبت کے پیغام کو عام کرنے سے ہی یہ انتہا پسندی ختم ہو سکتی ہے اور اس کیلئے تحریک منہاج القرآن موثر انداز میں کام کر رہی ہے۔

اس عالمی کانفرنس میں جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد، علامہ غلام مرتضیٰ علوی اور علامہ صاحبزادہ ظہیر احمد نقشبندی نے بھی خطاب کیا۔ آخر میں درود و سلام کے بعد پاکستان سمیت دنیا بھر میں امن و امان اور انسانیت کی فلاح کے لیے اجتماعی دعا کی گئی۔

کانفرنس کے جملہ انتظامات کی انجام دہی میں سینئر نائب ناظم اعلیٰ شیخ زاہد فیاض (سربراہ)، بریگیڈیئر ریٹائرڈ اقبال احمد، جواد حامد (سیکرٹری)، جی ایم ملک (نائب سربراہ)، امیر پنجاب احمد نواز انجم (نائب سربراہ)، نائب ناظم اعلیٰ رانا محمد ادریس قادری (نائب سربراہ)، محمد عاقل ملک (نائب سربراہ)، رانا فاروق محمود (نائب سربراہ)، راجہ جمیل اجمل (نائب سربراہ)، ساجد محمود بھٹی (نائب سربراہ)، محمد شاہد لطیف (نائب سربراہ)، ارشاد احمد طاہر (نائب سربراہ)، حاجی محمد اسحاق (نائب سربراہ)، شہزاد رسول قادری (ڈپٹی سیکرٹری)، صاحبزادہ افتخار الحسن (ڈپٹی سیکرٹری)، ذیشان بیگ (ڈپٹی سیکرٹری)، محمد عباس نقشبندی (ممبر)، سید الطاف شاہ گیلانی (ممبر)، انوار اختر ایڈووکیٹ (ممبر)، شیخ عامر رفیع (ممبر)، سید فرحت حسین شاہ (ممبر)، سہیل احمد رضا (ممبر)، ملک شمیم احمد خان (ممبر)، جاوید اقبال قادری (ممبر)، شفیق الرحمن سعد (ممبر)، ساجد حمید (ممبر) اور دیگر کمیٹیز کے سربراہان، سیکرٹریز و ممبران نے نمایاں کردار ادا کیا۔ اسی طرح منہاج القرآن ویمن لیگ کی ناظمہ سمیرا رفاقت ایڈووکیٹ کی سربراہی میں ویمن لیگ کی پوری ٹیم نے کانفرنس کی کامیابی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ کمیٹی نے خواتین پنڈال میں سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کو یقینی بنایا۔

تبصرہ