شدید سردی اور موسلا دھار بارش کے باوجود سالانہ عالمی میلاد کانفرنس کے انعقاد پر ڈاکٹر طاہر القادری کی کارکنان کو مبارکباد

عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر اتباع رسول ممکن نہیں، پورے ملک میں میلاد النبی کی لاکھوں محافل سجائی جائیں
بے سکونی، اضطراب اور مادیت سے چھٹکارا پانے کیلئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سے رشتہ محبت قائم کرنا ہو گا
عالمی میلاد کانفرنس کی انتظامی کمیٹیوں کے سربراہان سے کینیڈا سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے تحریک منہاج القرآن کے کارکنان، عہدیداران اور وابستگان کو شب ربیع الاوَل شدید سردی اور موسلا دھار بارش کے دوران تاریخی اور عظیم الشان سالانہ عالمی میلاد کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر خصوصی مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو لاکھ سے زائد خواتین بچوں اور مردوں کا اذان فجر تک مینار پاکستان کے سبزہ زار میں رکے رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی عوام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ عشق کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دو مہینے تک پورے ملک میں میلاد النبی کی لاکھوں محافل سجائی جائیں، گھروں میں درود پاک کی کثرت کی جائے، اللہ کو منانے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔ وہ گذشتہ روز عالمی میلا د کانفرنس کی انتظامی کمیٹیوں کے سربراہان سے کینیڈا سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر امیر تحریک صاحبزادہ علامہ مسکین فیض الرحمن درانی، ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، شیخ زاہد فیاض، محمد جواد حامد، جی ایم ملک، قاضی فیض الاسلام، سید الطاف شاہ گیلانی، راجہ جمیل اجمل، احمد نواز انجم، ساجد محمود بھٹی، محمد عاقل ملک، شمیم نمبردار، ساجد حمید اور دیگر کمیٹیوں کے سربراہان بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ اہل پاکستان خوش نصیب ہیں جو ہر سال انہیں عالم اسلام کی سب سے بڑی میلاد کانفرنس کے انعقاد کی سعادت نصیب ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن پوری دنیا میں فروغ عشق رسول کیلئے انتہائی موثر اور مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ معاشرے میں پائی جانیوالی انتہا پسندی، بے سکونی، اضطراب اور مادیت سے چھٹکارا پانے کیلئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سے رشتہ محبت قائم کرنا ہو گا۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر اتباع رسول ممکن نہیں، اس لیے ماہ ربیع الاوَل میں کثرت محافل میلاد بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق عشقی کی بحالی اور مضبوطی پر بھرپور محنت کی جائے تاکہ اللہ کی ناراضگی ختم ہو اور ہماری اجڑی زندگیوں میں بہار لوٹ آئے۔

تبصرہ