بنگلور میں بھی لاکھوں مسلمانوں کی طرف سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا عظیم الشان استقبال

بھارتی میڈیا کے مطابق 20 لاکھ سے زائد مسلمانوں نے بنگلور میں ہونے والے اجتماع میں شرکت کی
انڈیا کے مسلمانوں کا عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھ کر مجھے حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی یاد آ رہی ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

بھارت کے شہروں حید ر آباد، گجرات، دہلی اور کچھ میں ہونے والے تاریخی اجتماعات کے بعد شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا بنگلور میں بھی لاکھوں مسلمانوں نے عظیم الشان استقبال کیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری خطاب کیلئے پیلس گراؤنڈ پہنچے تو ہر طرف انسانوں کا سمندر ان کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب تھا۔ تا حد نگاہ انسانی سروں کے نہ ختم ہونے والے منظر کو دیکھ کر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے مائیک پر آ کر بے ساختہ کہا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ خطاب کی بجائے آپ کو دیکھتا رہوں۔ اس پر پنڈال دس منٹ تک جیوے جیوے طاہر جیوے اور مجدد رواں صدی طاہرالقادری کے نعروں سے گونجتا رہا۔

بھارتی میڈیا کے اعداد وشمار کے مطابق 20 لاکھ سے زائد مسلمانوں نے بنگلور میں ہونے والے اجتماع میں شرکت کی۔ بھارت کے پانچ شہروں میں تحریک منہاج القرآن انڈیا کے تحت ہونے والے مختلف اجتماعات میں مجموعی طور پر 80 لاکھ سے زائد مسلمانوں نے شرکت کی اور مختلف ٹی وی چینلز کے ذریعے 10 کروڑ سے زائد مسلمانوں نے ان خطابات کو براہ راست دیکھا اور سنا۔ انڈیا کی تاریخ میں یہ کسی بھی سکالر کو سننے کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری بھارتی شہر بنگلور کے پیلس گراؤنڈ میں لاکھوں مسلمانوں سے خطاب کر رہے ہیں

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے مسلمانوں کے متلاطم سمندر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زندگیاں سنوارنے کیلئے ناگزیر ہے کہ ذات محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قلبی، حبی اور عشقی تعلق قائم کیا جائے۔ ذات مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق مضبوط ہونے کے بعد تعلیمات پر عمل نہ صرف آسان ہو جاتا ہے بلکہ اس میں لذت و حلاوت بھی شامل ہو جاتی ہے۔

 انہوں نے جذباتی ہو کر کہا کہ لوگو! میری پوری زندگی امت مسلمہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق و محبت کا شعور دینے میں گزر گئی ہے اور میری حیات کا مقصد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق کے ڈنکے بجانا ہے۔ انڈیا کے مسلمانوں کا عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھ کر مجھے حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی یاد آ رہی ہے۔

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرنے والے کے ہر عمل سے سلامتی محبت، خیر، مواخات، احترام انسانیت، اختلاف رائے کا احترام اور برداشت کے رویے پھوٹتے ہیں۔ جسکے باطن کی دنیا عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لبریز ہو جائے وہ پوری انسانیت کیلئے سراپا سلامتی بن جاتا ہے۔ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ نعمت ہے جو باطن کی دنیا میں انقلاب لے آتی ہے۔ محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے ہی محبت و مواخات عام ہو گی اور نفرت و انتقام کے رویے رخت سفر باندھیں گے۔

آج امت مسلمہ غلامی کے سارے طوق اتار پھینکے اور غلامی مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پٹے کو فخر کے ساتھ پہن لے تو ہمارا زوال رخصت ہو جائے گا اور دائمی عروج مقدر بن جائے گا۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن اور عشق رسول لازم و ملزوم ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عشق کرنے والا انسانوں سے نفرت نہیں کر سکتا اسکے ہر عمل سے خیر اور سلامتی کے رویے پھوٹتے ہیں۔ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فروغ ہی مختلف معاشروں کو انتہا پسندی، دہشت گردی سے دائمی نجات دلا سکتا ہے۔

تبصرہ