حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمہوری اصولوں پر دنیا کی پہلی فلاحی ریاست قائم کی۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

اکثریت کی رائے کی درست تسلیم کرنے کا تصور مغرب نے نہیں دین اسلام نے انسانیت کو دیا
اسلام نے پارلیمنٹ کو 1400 سال قبل خود مختاری دی
نیو یارک (امریکہ) میں ہونے والی تاریخی مولد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانفرنس میں شریک 22 ہزار افراد سے خطاب

جمہوریت کے بانی محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور ہجرت کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمہوری اصولوں پر دنیا کی پہلی فلاحی ریاست قائم کی جس میں غیرمسلموں کو بھی برابر کے حقوق میسر تھے۔ مسلمان کا مطلب ہمیشہ امن کیلئے کھڑا ہونے والا ہے اور جو امن کو سبوتاژ کرتا ہے اسکا تعلق نہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے نہ قرآن حکیم سے۔ آج جو لوگ جمہوریت کو خلاف اسلام سمجھتے ہیں وہ دین کی روح کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جمہوریت، انصاف، برداشت، امن اور بقائے باہمی، ریاست مدینہ کے بنیادی اجزاء تھے۔ مواخات کے ذریعے عادلانہ معاشی نظام مدینہ کے باسیوں کو میسر تھا۔ ان خیالات کا اظہار شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ناساؤ کولینزیم لانگ آئس لینڈ نیو یارک (امریکہ) میں ہونے والی تاریخی مولد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانفرنس میں شریک 22 ہزار افراد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ امریکہ کی تاریخ کی سب سے بڑی میلاد کانفرنس تھی جس میں دیگر مذاہب کے رہنماؤں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ چاروں امام اور سکالرز کی غالب اکثریت اس پر متفق ہے کہ اکثریت کی رائے کو درست مان کر فیصلے کئے جائیں اس لئے اکثریت کی رائے کی درست تسلیم کرنے کا تصور مغرب نے نہیں دین اسلام نے انسانیت کو دیا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اپر ہاؤس آف مدینہ میں 50 ممبرز (سینٹرز) تھے اور مدینہ کی پارلیمنٹ میں عورتیں ممبر ہوا کرتے تھیں۔ خلفاء راشدین کے دور میں احتساب کورٹ کی سربراہ ایک صحابی خاتون تھیں اور ایک ملک میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو سفیر بنا کر بھیجا گیا۔

اسلام نے پارلیمنٹ کو 1400 سال قبل خود مختاری دی اور اسلامی ریاست کا حسن تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بطور خلیفہ ایک عورت کی رائے کو درست مانتے ہوئے اپنے موقف سے رجوع کرلیا تھا جبکہ مغرب میں عورت کو ووٹ ڈالنے کا حق بھی 1900ء کے بعد دیا گیا اور اس سے قبل People کے لفظ کا اطلاق صرف سفید مرد پر ہوتا تھا۔ آج جو عورت کو پڑھانے کے قائل نہیں انہوں نے اسلام کا یہ تصور نہ جانے کہاں سے لیا ہے۔

تبصرہ